سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 329
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۹ کلمات طیبات سے شاد کام ہوتے رہے۔کمرہ میں بالکل سادگی تھی۔کوئی فرش نہ تھا۔نہ مکلف سامان بلکہ میں نے دیکھا کہ رضائی بھی پھٹی ہوئی تھی۔اس کی روئی مجھے نظر آ رہی تھی۔(۴) ایک دفعہ جب حضور کو معلوم ہوا کہ دوست آئے ہیں تو اس وقت مہندی لگوائی ہوئی تھی۔اسی طرح ریش مبارک پر رومال باندھے صرف کرتہ پہنے اغلبا سر پر صرف ٹوپی ہی تھی۔( یہ بہت پرانی رومی ٹوپی تھی۔جو اکثر پگڑی کے نیچے رہتی ) مسجد مبارک میں تشریف لے آئے۔اس سادگی اور بے تکلفی کے ساتھ میں نے حضور کو صرف ایک ہی دفعہ باہر آتے دیکھا۔ورنہ آپ نماز وسیر کے لئے جب بھی تشریف لاتے۔تو کوٹ پہنے پگڑی سر پر رکھے عصا ہاتھ میں لئے (نماز کے سوا۔عرفانی) تشریف لاتے۔اس وقت نو بجے کا وقت تھا۔آپ نے اپنی جیب سے ایک گھڑی نکالی جو رومال میں بندھی ہوئی تھی اور فرمایا۔اس میں تو تین بجے ہیں۔پھر کسی نے چابی لگائی۔وقت صحیح کر دیا تو آپ نے اسی طرح باندھ کر جیب میں ڈال لیا۔جب حضور کے سامنے ذکر کیا کہ ایک گھڑی آٹھ روزہ چابی لیتی ہے تو بہت خوشی ظاہر فرمائی۔صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب کا واقعہ حضرت صاحبزادہ پیر سراج الحق جمالی نعمانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے خدام میں مسیح سے ہیں۔سر ساوہ ضلع سہارنپور آپ کا وطن ہے۔اور آپ کے والد صاحب کا سلسلہ پیری مریدی بہت مشہور ہے۔اور اب اس گدی پر آپ کے بھیجے گدی نشین ہیں۔صاحبزادہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے بہت سے واقعات مختلف اوقات میں بیان کئے۔اور شائع بھی فرمائے ہیں۔۱۹۲۴ء میں الحکم کے خاص نمبر کے لئے انہوں نے چند واقعات تحریر فرمائے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ایک ہی وقت میں ان سے حضور کی بے تکلفی اور سادگی اور حضور کی شفقت و رحمت اپنے خدام پر شب بیداری اور توجہ الی اللہ ثابت ہوتی ہے۔یہاں میں اسے صرف حضور کی سادگی اور بے تکلفی کے سلسلہ میں درج کرتا ہوں۔