سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 327 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 327

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۷ اس مقدمہ کا ایک اور واقعہ مفتی صاحب ہی کہتے ہیں کہ میں گورداسپور سے ایک خط لے کر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا۔گرمی کا موسم تھا۔اور میں سخت دھوپ میں آیا۔رات کو بھی میں سو نہ سکا تھا۔حضرت مسیح موعود" نیچے کے کمرے میں تشریف فرما تھے۔میں جب پہنچا تو آپ خط لے کر میرے لئے شربت لینے تشریف لے گئے۔گرمی اور کوفت کی وجہ سے میں اونگھ گیا۔اور وہیں لیٹ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد کیا دیکھتا ہوں حضرت کے ہاتھ میں پنکھا ہے۔میں اٹھ بیٹھا اور بہت ہی شرمندہ ہوا۔فرمایا۔” تھکے ہوئے تھے سو جاؤا چھا ہے۔میں نے عذر کیا۔پھر آپ نے وہ شربت دیا اور میں پی کر گھر چلا آیا۔غرض حضور کی زندگی میں اس سادگی اور بے تکلفی کی ایک نہیں سینکڑوں مثالیں اور واقعات ملیں گے۔کبھی اور کسی حال میں آپ نے تفوق کی خواہش نہیں کی۔اور اپنے تمام خدام سے ایسا محبت اور شفقت کا برتاؤ کرتے تھے کہ وہ شرمندہ ہوتے۔مگر وہ سلوک ان کے قلوب میں ایک ایسی برقی رو پیدا کر دیتا تھا کہ کوئی چیز حضور سے ان کو جدا نہ کر سکتی۔سادگی اور بے تکلفی کے چند اور واقعات مکرمی قاضی اکمل صاحب نے الحکم کے ایک خاص نمبر کے لئے داستانِ شوق لکھی تھی۔اس میں چندا ایسے واقعات بھی قلمبند فرمائے تھے۔جو حضور کی بے تکلفی اور سادہ زندگی کی حقیقت کو آشکارا کرتے ہیں۔میں ایک سے زیادہ مرتبہ لکھ چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے انبیاء بناوٹ ، تکلف اور نمائش سے بالکل بری ہوتے ہیں۔ذیل کے واقعات کی روشنی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے چند نظارے ملاحظہ کرو۔