سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 308
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۸ نصیحت کے لکھ دیں۔نیز کوئی دوائی اور ایک کر یہ بھی طلب کیا۔حضرت اقدس کو دوران سر کا شدید دورہ تھا۔اور نماز میں بھی تشریف نہ لا سکے۔مگر آپ نے باوجود اس کے کہ سر میں سخت درد تھا شاہ صاحب کے خط کے جواب میں ایک نصیحت نامہ لکھا۔اور دوائی اور گریہ بھی دیا۔یہ واقعہ اس بات کی شہادت ہے کہ آپ اپنی بیماری کی شدید ترین حالتوں میں بھی اپنے خدام کی جائز درخواستوں کو پورا کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔اور عوام کے نفع اور بھلائی کے لئے تکلیف کی بھی پروانہ کرتے تھے۔اور تبلیغ حق اور صح اور کلمتہ الخیر کے پہنچانے میں ہر وقت آمادہ رہتے تھے۔ہر سائل کو عطاء کے لئے تیار رہتے تھے جب حضور آخری مرتبہ ۱۹۰۵ء میں دہلی تشریف لے گئے تو ایک روز آپ دہلی کے مزارات وغیرہ پر جانے کے ارادے سے نکلے۔کسی نے بیان کیا کہ حضور اس طرف راستہ میں اس قدر گداگر ہوتے ہیں کہ گزرنا مشکل ہو جاتا ہے۔آپ نے فرمایا۔آج ہم چلتے ہیں ہم سب کو دیں گے۔یہ معمولی عزم اور حوصلہ نہ تھا۔آپ حقیقت میں اس امر کے لئے تیار تھے کہ جو کوئی بھی مانگے گا اسے دیں گے۔جس کثرت سے گدا گروں کا ہونا بتایا گیا تھا اس قدر تو ملے نہیں۔بعض ملے اور ہر ایک نے اپنے سوال کا جواب عملی طور پر حاصل کیا۔میں نے حضرت کو پیسہ دیتے نہیں دیکھا میں ۱۸۹۸ ء سے مستقل طور ہر حضرت کی خدمت میں آگیا۔اور ۱۸۹۲ء سے قادیان آتا تھا۔میرے سامنے اکثر لوگوں نے سوال کیا۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی نہیں دیکھا کہ آپ نے سائل کو تانبے کا سکہ یعنی پیسہ دیا ہو۔آپ ہمیشہ چاندی کا سکہ دیتے تھے اور علی العموم معمولی سائل کو بھی ایک روپیہ دے دیتے تھے۔ایک غیر احمدی فقیر نے ایک مرتبہ حضرت کی خدمت میں آکر سوال کیا۔کہ میں جنگل میں ایک کنواں لگوانا چاہتا ہوں۔وہاں مسافروں کو اس سے آرام ملے گا۔اور وہ پانی پیئیں گے۔کہتے ہیں حضرت نے اس کو اس غرض کے لئے دوسور و پی دے دیا۔