سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 309
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۹ دوسرے کے سوال کا انتظار نہ کرتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت میں یہ امر بھی داخل تھا جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کر آیا ہوں کہ بعض اوقات وہ کسی کی حاجت اور ضرورت کا احساس کر کے اس کے سوال یا اظہار کے منتظر نہ رہتے تھے بلکہ خود بخود ہی پیش کر دیا کرتے تھے۔مکرمی شیخ فتح محمد صاحب پنشن انسپکٹر ریاست کشمیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرصہ دراز سے آنے والے ہیں۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب کبھی حضرت کی خدمت میں آتا تھا تو ہمیشہ میرا کرایہ ادا کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے۔مگر مجھ کو چونکہ ضرورت نہ ہوتی تھی میں نے کبھی لیا نہیں۔لیکن حضرت کی روح سخاوت اس قدر عظیم الشان تھی کہ آپ بغیر استفسار ہمیشہ پیش کر دیتے۔اور یہ میرے ساتھ ہی معاملہ نہ تھا بلکہ اکثر کو دیتے رہتے تھے۔شام اور عرب سے بعض لوگ آتے۔اور آپ ان کو بعض اوقات بیش قرار رقوم زادِ راہ کے طور پر دیتے کیونکہ حضور جانتے تھے۔وہ دور دراز سے آئے ہیں۔تریاق الہی کی عطاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب طاعون اس ملک میں پھیلی تو اللہ تعالیٰ کی وحی اور علم کے ماتحت ایک دوائی تیار کرنی شروع کی۔جس کا نام حضور نے تریاق الہی رکھا۔اس دوائی کا کوئی مقرر نسخہ نہ تھا۔بلکہ جس جس طرح پر اللہ تعالیٰ کی وحی خفی نے ہدایت کی آپ اس کے اجزاء مہیا کرتے تھے۔اور عرفی اصول طب کی پروا نہ کرتے ہوئے اجزاء کے وزن اور پیمانہ کو اسی اصل علم الہی کے ماتحت کر دیا۔اس دوائی میں کئی ہزار کے تو جو ہرات ڈالے گئے اور بھی بہت سی قیمتی ادوایات ڈالی گئیں۔جب یہ دوائی تیار ہوئی تو حضور نے نہایت فراخدلی کے ساتھ اسے تقسیم کیا۔اور ایک جبہ کسی سے نہیں لیا بلکہ باہر سے طلب کرنے والوں کو رجسٹر ڈ پارسل بھی اپنے خرچ سے بھجوا دیتے تھے۔مکرمی ڈاکٹر صادق صاحب نے ایک مرتبہ بیان کیا تھا کہ کسی شخص نے دو تین ماشہ تریاق طلب کیا تھا۔آپ نے اسے بہت سی مقدار ڈبیہ میں بند کر کے رجسٹری کرا کر روانہ کردی۔خود خاکسار عرفانی نے جب عرض کیا تو بہت