سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 307 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 307

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۷ کی اصلاح کے قابل ہو سکیں۔وہ اس وقت کے گئے ہوئے گویا اب واپس آسکے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں برابر خط و کتابت رکھتے تھے۔اور سلسلہ کی مالی خدمت اپنی طاقت اور توفیق سے بڑھ کر کرتے رہے اور آج کل قادیان میں ہی مقیم ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی داد و دہش اور جود وسخا کے متعلق میں تو ایک ہی بات کہتا ہوں کہ آپ تھوڑا دینا جانتے ہی نہ تھے۔اپنا ذاتی واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے جب اس سفر کا ارادہ کیا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کچھ روپیہ مانگا۔حضور“ ایک صند و نچی جس میں روپیہ رکھا کرتے تھے اٹھا کر لے آئے اور میرے سامنے صندوقچی ہی رکھ دی کہ جتنا چاہو لے لو اور حضور کو اس سے بہت خوشی تھی۔میں نے اپنی ضرورت کے موافق لے لیا۔گو حضور یہی فرماتے رہے کہ سارا ہی لے لو۔اصل بات یہ ہے کہ دوستوں کے ساتھ تو آپ کا معاملہ ہی الگ تھا۔وہ اپنے مال کو دوستوں ہی کا مال عملاً سمجھتے تھے۔اور اس معاملہ میں آپ کو اس سے تکلیف ہوتی۔اگر کوئی خادم مغایرت کرے۔حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ آپ سے کچھ قرض لیا۔جب انہوں نے اس روپیہ کو حضرت کی خدمت میں واپس بھیجا تو حضرت نے ناپسند فرمایا اور واپس کر کے فرمایا کہ آپ ہمارے روپیہ کو اپنے روپیہ سے الگ سمجھتے ہیں۔حضرت سید فضل شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ حضرت سید فضل شاہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہایت ہی مخلص خدام میں سے تھے۔شاہ صاحب مکرمی سید ناصر شاہ صاحب کے برادر معظم تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ان کو عشق تھا۔آخر وہ ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے۔اور دار الضعفاء میں رہتے تھے اور اب مقبرہ بہشتی میں آرام فرماتے ہیں۔جولائی ۱۹۰۰ء کا واقعہ ہے کہ وہ قادیان آئے ہوئے تھے۔انہوں نے ۶ / جولائی ۱۹۰۰ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جانے کی اجازت طلب کی۔اور یہ بھی خواہش کی کہ حضور چند کلمات