سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 288
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۸ صاحب نے بھی یہ نہیں پوچھا کہ کیا دے دوں بلکہ وہ ساتھ ہی ہو گئے۔اور اسے کہا کہ چلو بھائی میں چل کر تمام انتظام کرتا ہوں۔وہ سائل قاضی صاحب کو لے کر رخصت ہوا۔تھوڑی دیر کے بعد قاضی صاحب ہنستے ہوئے واپس آئے اور کہا کہ حضرت وہ تو بڑا دھوکہ باز تھا راستہ میں جا کر اس نے میری منت و خوشامد شروع کی کہ خدا کے واسطے آپ نہ جائیں جو کچھ دینا ہو دے دو۔میں نے کہا مجھے تو خود جانے کا حکم ہے جو کچھ تمہارے پاس ہے مجھے دو جو کچھ خرچ آئے گا میں کروں گا۔آخر اس نے جب دیکھا کہ میں نہیں ملتا تو اس نے ہاتھ جوڑ کر ندامت کے ساتھ کہا کہ نہ کوئی مرا ہے نہ کفن دفن کی ضرورت ہے یہ میرا پیشہ ہے۔اب میری پردہ دری نہ کرو تم واپس جاؤ اور مجھے چھوڑ دو میں اب یہ کام نہیں کروں گا۔“ جب قاضی صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا تو طبعی طور پر اس کے سننے سے ہنسی بھی آئی مگر آپ کی فراست مومنانہ اور اخلاق کا بھی عجیب اثر ہوا۔آپ نے حُسنِ ظن کر کے اس کو جواب تو نہ دیا مگر ایسا طریق اختیار کیا جس سے اس کی اصلاح ہو گئی اور غیر محل پر آپ کو خرچ کرنے کی بھی ضرورت نہ پڑی۔آپ کسی کی ضرورت کا احساس کر کے سوال کی بھی نوبت نہ آنے دیتے تھے جہاں آپ کی عادت میں یہ تھا کہ آپ سائل کو کبھی رڈ نہ کرتے تھے یہ امر بھی آپ کے معمولات میں تھا کہ بعض لوگوں کی ضرورتوں کا احساس کر کے قبل اس کے کہ وہ کوئی سوال کریں ان کی مدد کیا کرتے تھے۔چنانچہ ۲۸ /اکتوبر ۱۹۰۴ء کی صبح کو قبل نماز فجر آپ نے کچھ روپیہ جس کی تعداد آٹھ یا دس ہو گی ایک مخلص مہاجر کو یہ کہہ کر دیئے کہ موسم سرما ہے آپ کو کپڑوں کی ضرورت ہوگی اس مہاجر کی طرف سے کوئی سوال نہ تھا۔خود حضور علیہ السلام نے اس کی ضرورت محسوس کر کے سیر قم عطا کی۔