سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 289
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۹ یہ ایک واقعہ نہیں متعدد بار ایسا ہوتا۔اور مخفی طور پر آپ عموماً حاجت مند لوگوں سے سلوک کرتے رہتے اور اس میں کسی دوست دشمن ہند و یا مسلمان کا امتیاز نہ تھا۔نہالا بہار وراج کے ساتھ سلوک قادیان میں ایک شخص نہال چند ( نہالا ) بہارو راج ایک برہمن تھا اپنی جوانی کے ایام میں وہ ایک مشہور مقدمہ باز تھا۔آخر عمر تک قریباً اس کی ایسی ہی حالت رہی۔وہ ان لوگوں میں سے تھا جو حضرت اقدس کے خاندان کے ساتھ عموماً مقابلہ اور شرارتیں کرتے رہتے تھے پھر سلسلہ کے دشمنوں کے ساتھ بھی وہ رہتا۔اخیر عمر میں اس کی مالی حالت نہایت خراب ہوگئی اور یہاں تک کہ بعض اوقات اس کو اپنی روزانہ ضروریات کے لئے بھی مشکلات پیش آتی تھیں۔اس نے ایک مرتبہ حضرت اقدس کے دروازے پر آکر ملاقات کی خواہش کی اور اطلاع کرائی۔حضرت صاحب فوراً تشریف لے آئے۔اس نے سلام کر کے اپنا قصہ کہنا شروع کیا۔حضرت اقدس نے نہ صرف تسلی دی بلکہ پچیس روپے کی رقم لا کر اس کے ہاتھ میں دے دی اور فرمایا کہ فی الحال اس سے کام چلاؤ پھر جب ضرورت ہو مجھے اطلاع دینا۔چنانچہ اس کے بعد اس شخص کا معمول ہو گیا کہ وہ مہینے دو مہینے کے بعد آتا اور ایک معقول رقم آپ سے اپنی ضروریات کے لئے لے جاتا۔وہ نہ صرف حضرت اقدس سے لیتا بلکہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اس نے بطور قرض ایک معقول رقم ایک خاص وعدہ پر لی تھی۔جب وہ وعدہ کا وقت گزر گیا تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے اس سے مطالبہ کرایا۔مگر اس نے یوں ہی سرسری جواب دے کر ٹال دیا۔آخر حضرت خلیفہ اول نے مجھے فرمایا کہ میں اس سے مطالبہ کروں۔میں نے جب اُس کو کہا تو اس نے مندرجہ بالا واقعہ اپنا بیان کیا اور کہا کہ ” مولوی صاحب بار بار آدمی بھیجتے ہیں مرزا جی تو مجھے ہمیشہ روپیہ دیتے ہیں اور اس سے میرا گزارا چلتا ہے“۔میں نے آکر حضرت خلیفہ اول سے واقعات عرض کئے تو فرمایا کہ اچھا اب اس کو نہ کہنا۔اسی طرح ایک شخص پنڈت پیج ناتھ بہنوت بھی تھا۔مجھے معلوم ہے کہ بعض اوقات حضرت نے