سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 287 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 287

سیرت ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۷ کی حقیقی عظمت اس میں نہ ہونا ممکن ہے۔الفاظ اس کے لئے مساعدت نہیں کرتے کہ فطرت کی اس علو ہمتی اور فیاضی کے اس بلند مقام کا نقشہ کھینچ سکیں۔حضرت نے اس کی آواز کو جو بجائے خود دھیمی تھی اور دوسرے لوگوں کی آوازوں میں ملی ہوئی تھی پورے طور پر سنا بھی نہیں تھا اور وہ اگر اس پر توجہ نہ کرتے تو اخلاقی شریعت میں اس پر کوئی مواخذہ نہیں تھا مگر اس دھیمی آواز کا اتنا اثر کہ ضروری سے ضروری کام چھوڑ کر آتے ہیں اور ایک آدمی کو سائل کی تلاش پر مقرر کرتے ہیں اور پھر یہاں تک ہی نہیں بلکہ اس کے لئے دعا کرتے ہیں کہ سائل مل جاوے۔یہ پاکیزہ فطرت خدا تعالیٰ کے نبیوں کے سوا دوسری جگہ نہیں مل سکتی۔آپ کی عادت میں کبھی اس امر کو کسی نے نہیں دیکھا کہ کسی سائل کے متعلق آپ نے بدظنی کی ہو کہ یہ فی الواقع حاجت مند نہیں ہے۔آپ ہمیشہ یہی فرماتے تھے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دیناہی چاہیے اور آپ کا یہ عام طرز عمل تھا کہ حتی المقدور کبھی کسی سائل کو رڈ نہ کرتے تھے اور یہ کبھی کسی نے نہیں دیکھا کہ آپ نے رڈ کیا ہو۔اور اس کے ساتھ ہی آپ کا یہ طریق بھی تھا کہ آپ موقع اور محل کو بھی دیکھتے تھے۔چونکہ محض خدا کی رضا مقصود ہوتی تھی کوئی فخر یا نمائش مد نظر نہ تھی۔اس امر کا لحاظ بھی رکھتے تھے کہ برمحل ہو۔ایک عجیب واقعہ آپ ۱۸۸۹ء میں جو بیعت کا سال ہے اور ہا نہ میں موجود تھے۔ایک موقع پر آپ کے پاس ایک سائل آیا اور اس نے ذکر کیا کہ میرا ایک عزیز فوت ہو گیا ہے میرے پاس کفن دفن کے لئے کچھ انتظام نہیں ہے اور اس نے کچھ سکتے چاندی اور تانبے کے رکھے ہوئے تھے یہ دکھانے کے لئے کہ کسی قدر چندہ ہوا ہے اور ابھی اور ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مکرمی حضرت قاضی خواجہ علی صاحب رضی اللہ عنہ کو ( جو بڑے ہی مخلص اور حضرت کی راہ میں فدا شدہ بزرگ تھے ) فرمایا کہ ” قاضی صاحب ان کے ساتھ جا کر کفن کا سامان کر دو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس قسم کی عادت نہ تھی بلکہ عام طور پر جو مناسب سمجھتے دے دیتے۔اس ارشاد پر خدام کو تعجب ہوا۔قاضی