سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 208
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۸ اختیار کرنا چاہیے۔لوگ ایسے موقع پر ایسی باتیں کرتے ہیں جو بجائے تسلی اور اطمینان کے جگر دوز اور غم والم کے محرکات ہو جاتی ہیں اور بجائے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے کے اس سے دور پھینک دیتی ہیں۔اب تعزیت کے دو خط اور درج کرتا ہوں۔جو آپ نے مخدومی حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کو ان کی پہلی بیگم صاحبہ کی وفات پر لکھے۔نواب محمد علی خان صاحب کی بیگم صاحبہ اولیٰ کی وفات پر تعزیت کا خط بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سَلَّمَهُ تَعَالَى السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج صدمہ عظیم کی تار مجھ کوملی۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اللہ تعالیٰ آپ کو صبر جمیل عطا فرمادے اور اس کے عوض کوئی آپ کو بھاری خوشی بخشے۔میں اس درد کو محسوس کرتا ہوں جو اس ناگہانی مصیبت سے آپ کو پہنچا ہوگا۔اور میں دعا کرتا ہوں کہ آئندہ خدا تعالیٰ ہر ایک بلا سے آپ کو بچاوے اور پردہ غیب سے اسباب راحت آپ کے لئے میسر کرے۔میرا اس وقت آپ کے درد سے دل دردناک ہے اور سینہ نظم سے بھرا ہے۔خیال آتا ہے کہ دنیا کیسی بے بنیاد ہے۔ایک دم میں ایسا گھر کہ عزیزوں اور پیاروں سے بھرا ہوا ہو، ویران بیابان دکھائی دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے اس رفیق کو غریق رحمت کرے اور اس کی اولادکو اور اقبال اور سعادت بخشے۔لازم ہے کہ ہمیشہ ان کو دعائے مغفرت میں یا درکھیں۔پہلی دو تاریں ایسے وقت میں پہنچیں کہ میرے گھر کے لوگ سخت بیمار تھے اور اب بھی بیمار ہیں۔تیسرا مہینہ ہے۔دست اور مروڑ ہیں۔کمزور ہو گئے ہیں۔بعض وقت ایسی