سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 207 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 207

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۲۰۷ میں دیں تا توحید کی حقیقت انہیں حاصل ہو۔سو میں آپ کو خالصتاً لِلله نصیحت کرتا ہوں کہ آپ اس حزن و غم سے دست کش ہو جائیں اور اپنے محبوب حقیقی کی طرف رجوع کریں تا وہ آپ کو بخشے اور آفات سے محفوظ رکھے۔والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان یکم مارچ ۱۸۸۸ء مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۵۴۱،۵۴۰ مطبوعه ۲۰۰۸ء) ان تعزیت ناموں پر مجھے کسی ریمارک کی ضرورت نہیں ان سے حضرت مسیح موعود کا وہ مقام معلوم ہوتا ہے جو آپ کو اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہونے کے بعد ملا تھا اور آپ کے قلب پر دنیا کی ساری محبتیں سرد ہو چکی تھیں اور یہی روح اور قوت آپ اپنے مخلص دوستوں میں پیدا کرنا چاہتے تھے۔یہ بھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کہنے اور حق کی طرف بلانے میں آپ کو کوئی چیز روک نہیں ہو سکتی تھی۔دنیا کے گدی نشین اور علماء کی یہ حالت نہیں وہ اپنے دوستوں کو جس رنگ کا پاتے ہیں اُسی رنگ کے جواز کی صورتیں پیدا کر دیتے ہیں گویا وہ خود ان کے نص کی اتباع کرتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود کا طریق بالکل جدا گانہ ہے۔آپ نے اپنے ایک نہایت مخلص خادم میں ایک غلطی کا احساس کیا کہ وہ غیر اللہ سے محبت کا وہ رنگ رکھتے ہیں یا پیدا کر رہے ہیں جو خدا کی غیرت اور اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔آپ نے اس حالت میں کہ ان کا دل صد مہ رسیدہ تھا اس کی اصلاح کے لئے پردہ برانداز نصیحت فرمائی ہے۔جس سے اس حقیقی خیر خواہی اور محبت الہی کا بھی پتہ لگتا ہے۔جو آپ کو چوہدری رستم علی صاحب سے تھی۔غرض تعزیت میں آپ کا یہ رنگ تھا۔کہ دنیا اور اس کے متعلقات کی محبت سرد ہو جائے۔اور انسان اپنی توجہ اور محبت کی عنان کو خدا تعالیٰ ہی کی طرف رکھے۔اس قسم کی تعزیت انسان کے زخمی دل پر فی الحقیقت مرہم کا کام دیتی ہے آپ نے اس سے تعلیم دی ہے کہ ہم کو تعزیت کے لئے کیا طریق