سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 92
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۹۲ حصّہ اوّل اور عملی صراط مستقیم یہ ہے کہ حقیقی نیکی بجالانا یعنی وہ امر جو حقیقت میں ان کے حق میں اصلح اور راست ہے بجالا نا یہ توحید عملی ہے کیونکہ موحد کی اس میں یہ غرض ہوتی ہے کہ اس کے اخلاق سراسر خدا کے اخلاق میں فانی ہوں اور حق النفس میں علمی صراط مستقیم یہ ہے کہ جو جو نفس میں آفات پیدا ہوتی ہیں جیسے عجب اور یا اور تکبر اور حــقــد اور حسد اور غرور اور حرص اور بخل اور غفلت اور ظلم ان سب سے مطلع ہونا اور جیسے وہ حقیقت میں اخلاق رذیلہ ہیں ویسا ہی ان کو اخلاق رذیلہ جانا یہ علمی صراط مستقیم ہے اور یہ توحید علمی ہے کیونکہ اس سے عظمت ایک ہی ذات کی نکلتی ہے کی جس میں کوئی عیب نہیں اور اپنی ذات میں قدوس ہے۔اور حق النفس میں عملی صراط مستقیم یہ ہے جو نفس سے ان اخلاق رذیلہ کا قلع قمع کرنا اور صفت تختی عن الرذائل اور تجلّی بالفضائل سے متصف ہونا، یہ عملی صراط مستقیم ہے اور یہ تو حید حالی ہے کیونکہ موحد کی اس سے یہ غرض ہوتی ہے کہ تا اپنے دل کو غیر اللہ کے دخل سے خالی کرے اور اس کو فنافی تقدس اللہ کا درجہ حاصل ہو۔“ 66 الحکم ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ نمبر ۳ کالم نمبر ۴۳) حق العباد اور حق النفس میں عملی صراط مستقیم کا امتیاز یا ادائے خدمت اور تزکیہ نفس کی حقیقت پھر اسی سلسلہ میں حضرت مسیح موعود نے ایک اور باریک اور لطیف امتیاز ان اخلاق میں بتایا ہے جو ذاتی ونفسی خوبیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کا نام تزکیہ نفس رکھا جاسکتا ہے اور ان اخلاق میں جو دوسروں پر مؤثر ہوتے ہیں۔اس فلسفہ کا امتیاز بتاتے ہوئے آپ نے اخلاق پر بحث کرنے والوں سے بالکل جدا گانہ طرز اختیار کی ہے اگر چہ دونوں قسمیں تزکیہ نفس سے تعلق رکھتی ہیں یعنی تزکیہ نفس کے ساتھ ہی مخلوق خدا کی ہمدردی و خدمت کا جوش بھی انسان میں پایا جاتا ہے مگر اس