سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 93 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 93

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۳ بار یک امتیاز کو اخلاقین نے اس حیثیت سے بیان نہیں کیا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔اس میں اور حق العباد میں جو عملی صراط مستقیم ہے ایک فرق باریک ہے۔۔۔اور وہ یہ ہے جو عملی صراط مستقیم حق النفس کا وہ صرف ایک ملکہ ہے جو بذریعہ ورزش کے انسان حاصل کرتا ہے اور ایک باطنی شرف ہے۔خواہ خارج میں کبھی ظہور میں آوے یا نہ آوے لیکن حق العباد جو عملی صراط مستقیم ہے وہ ایک خدمت ہے اور تبھی متحقق ہوتی ہے کہ جب افراد کثیرہ بنی آدم کو خارج میں اس کا اثر پہنچے اور شر ط خدمت کی ادا ہو جائے غرض تحقق عملی صراط مستقیم حق العباد ادائے خدمت میں ہے اور عملی صراط مستقیم حق النفس کا صرف تزکیہ نفس پر مدار ہے کسی خدمت کا ادا ہونا ضروری نہیں یہ تزکیہ نفس ایک جنگل میں اکیلے رہ کر بھی ادا ہوسکتا ہے لیکن حق العباد بجز مجالست بنی آدم کے ادا نہیں ہوسکتا۔اسی لئے فرمایا گیا جو رہبانیت اسلام میں نہیں۔اب جاننا چاہیے جو صراط مستقیم علمی اور عملی سے غرض اصلی توحید علمی اور توحید عملی ہے یعنی وہ تو حید جو بذریعہ علم کے حاصل ہو اور وہ تو حید جو بذریعہ عمل کے حاصل ہو۔پس یا درکھنا چاہیے جو قرآن شریف میں بجز توحید کے اور کوئی مقصود اصلی قرار نہیں دیا گیا اور باقی سب اس کے وسائل ہیں ایسا ہی اخلاق فاضلہ کا حاصل کرنا توحید عملی کے قائم کرنے کے لئے ہے کہ تا انسان کے آئینہ وجود میں اخلاق اللہ کا عکس منعکس ہو کر اس کو بالکل خودی اور ہستی سے محو کرے۔پس اگر انسان بطور خدمت مخلوق کے اپنے اخلاق کو معرض ظہور میں لاتا ہے تو یہ سارا کام اس غرض سے ہوتا ہے کہ تا اپنے افعال کو مبدء قدیم کے افعال میں فانی اور گم کرے جیسا فرمایا ہے اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام:۱۹۳) اور جیسا فرمایا بِي يَسْمَعُ بِي يَبْصُرُ بِي يَمْشِي بِي يَبْطِشُ “ اور اس حالت میں کہ افعال اس کے افعالِ الہی کا ایک سایہ ہوتے ہیں تو اس صورت میں بجز التزام حق اور حکمت کے اور کسی چیز کا التزام اُس کے افعال میں نہیں آتا اور جو مقتضا حق اور حکمت کا حصّہ اوّل