سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 91 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 91

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۱ حصّہ اوّل مانگتا رہے کیونکہ یہ امر اس کو تو حید پر قائم کرنے والا ہے کیونکہ صراط مستقیم پر ہونا خدا کی صفت ہے علاوہ اس کے صراط مستقیم کی حقیقت حق اور حکمت ہے۔“ (الحکم ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۳ کالم نمبر ۳) حق و حکمت کے اقسام ثلاثہ یا اخلاق فاضلہ کی تثلیث پس اگر وہ حق اور حکمت خدا کے بندوں کے ساتھ بجالا یا جاوے تو اس کا نام حقیقی نیکی ہے اور اگر خدا کے ساتھ بجالایا جاوے تو اس کا نام اخلاص اور احسان ہے اور اگر اپنے نفس کے ساتھ ہو تو اس کا نام تزکیہ لنکس ہے اور صراط مستقیم ایسا لفظ ہے کہ جس میں حقیقی نیکی اور اخلاص ما بعد اور تزکیہ نفس تینوں شامل ہیں۔اب اس جگہ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ صراط مستقیم جو حق اور حکمت پر مبنی ہے تین قسم پر ہے علمی اور عملی اور حالی اور پھر یہ تینوں تین قسم پر ہیں علمی میں حق اللہ حق العباد اور حق النفس کا شناخت کرنا ہے اور عملی میں اُن حقوق کو بجالا نا۔مثلاً حق علمی یہ ہے کہ اس کو ( اللہ تعالیٰ کو ایک سمجھنا اور اس کو مبدء تمام فیوض کا اور جامع تمام خوبیوں کا اور مرجع اور ماب ہر ایک چیز کا اور منزہ ہر ایک عیب اور نقصان سے جاننا اور جامع صفات کاملہ ہونا اور قابل عبودیت ہونا اسی میں محصور رکھنا یہ تو حق اللہ میں علمی صراط مستقیم ہے۔اور عملی صراط مستقیم یہ ہے جو اس کی طاعت اخلاص سے بجالانا اور طاعت میں اس کا کوئی شریک نہ کرنا اور اپنی بہبودی کے لئے اسی سے دعا مانگنا اور اسی پر نظر رکھنا اور اسی کی محبت میں کھوئے جانا یہ عملی صراط مستقیم ہے کیونکہ یہی حق ہے۔اور حق العباد میں علمی صراط مستقیم یہ ہے جو ان کو اپنا بنی نوع خیال کرنا اور بندگانِ خدا سمجھنا اور بالکل پیچ اور نا چیز خیال کرنا کیونکہ معرفت حقہ مخلوق کی نسبت یہی ہے جو ان کا وجود بیچ اور نا چیز ہے اور سب فانی ہیں۔یہ توحید علمی ہے کیونکہ اس سے عظمت ایک ہی ذات کی نکلتی ہے کہ جس میں کوئی نقصان نہیں اور اپنی ذات میں کامل ہے۔