سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 79 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 79

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۹ حصّہ اوّل طبیعت میں اس قسم کی کیفیت موجود ہو کہ اگر کام کرنے کے سامان اور مواقع ہاتھ آئیں 66 تو بلا تکلف وہ کام ظہور میں آئے۔“ الغزالی مصنفہ علامہ شبلی نعمانی صفحه ۲۶ از بر عنوان احیاء العلوم کا فلسفہ اخلاق) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نفس اخلاق کے متعلق یہ بتایا ہے کہ طبعی جذبات بطور امہات الاخلاق ہیں اور اخلاق کا کمال روحانیت کے کمال کو پیدا کرتا ہے آپ نے طبعی جذبات اور اخلاق میں ایک امتیاز کر کے دکھایا ہے جو غزالی اور دوسرے فلاسفروں کی تصنیفات میں نہیں پایا جاتا۔خواہ وہ مشرق کے ہوں یا مغرب کے۔پہلی بات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فلسفہ اخلاق کو تمام ماہرین نفسیات اور اخلاقیات سے ممتاز کرتی ہے یہ ہے کہ آخر الذکر لوگ طبعی جذبات اور اخلاقی امور میں مابہ الامتیاز نہیں قائم کر سکے۔برخلاف اس کے حضرت مسیح موعود نے ایک مابہ الامتیاز قائم کر کے دکھایا ہے چنانچہ فرماتے ہیں۔خدا کے پاک کلام نے تمام نیچرل قومی اور جسمانی خواہشوں اور تقاضوں کو طبعی حالات کی مد میں رکھا ہے اور وہی طبعی حالتیں ہیں جو بالا رادہ تربیت اور تعدیل اور موقع بینی اور محل پر استعمال کرنے کے بعد اخلاق کا رنگ پکڑ لیتی ہیں۔ایسا ہی اخلاقی حالتیں روحانی حالتوں سے کوئی الگ باتیں نہیں ہیں بلکہ وہی اخلاقی حالتیں ہیں جو پورے فنا فی اللہ اور تزکیہ نفس اور پورے انقطاع الی اللہ اور پوری محبت اور پوری محویت اور پوری سکینت اور اطمینان اور پوری موافقت باللہ سے روحانیت کا رنگ پکڑ لیتی ہیں۔طبعی حالتیں جب تک اخلاقی رنگ میں نہ آئیں کسی طرح انسان کو قابل تعریف نہیں بنا تیں۔کیونکہ وہ دوسرے حیوانات بلکہ جمادات میں بھی پائی جاتی ہیں۔ایسا ہی مجرد اخلاق کا حاصل کرنا بھی انسان کو روحانی زندگی نہیں بخشا۔بلکہ ایک شخص خدا تعالیٰ کے وجود سے بھی منکر رہ کر اچھے اخلاق دکھلا سکتا ہے۔دل کا غریب ہونا یا دل کا حلیم ہونا یا صلح کار ہونا یا ترک شر کرنا اور شریر کے مقابلہ پر نہ آنا یہ تمام طبعی حالتیں ہیں اور ایسی باتیں ہیں جو ایک نا اہل کو