سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 80 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 80

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا بھی حاصل ہو سکتی ہیں جو اصل سرچشمہ نجات سے بے نصیب اور نا آشنا محض ہے حصّہ اوّل اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد نمبر ، اصفحه ۳۲۶،۳۲۵) گویا آپ نے انسانی معراج اور انسانیت کا کمال ہر ایک خلق کو محل اور موقعہ پر استعمال کرنے میں بتایا ہے جس سے وہ روحانیت ملتی ہے جس کے ذریعہ انسان خدا کی راہ میں وفاداری کے ساتھ قدم مارتا اور اسی کا ہو جاتا ہے اور پھر جو اس کا ہو جاتا ہے اس کے بغیر جی ہی نہیں سکتا۔اور اس مقام پر وہ عارف ہوتا ہے جو خدا کی ایک مچھلی ہے اور اس کے ہاتھ سے ذبح کی گئی ہے اور اس کا پانی خدا کی محبت ہے۔او پر میں نے بتایا ہے کہ حضرت غزالی علیہ الرحمۃ نے یونانی فلسفہ کا خلاصہ اور نچوڑ یہ بتایا ہے کہ وہ طبیعت میں ملکہ راسخہ کے ہونے ہی کو اخلاق سمجھتے ہیں حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام طبیعی حالتوں کو نہایت ادنی درجہ دیتے ہیں اور وہ اپنی طبعی حالتوں میں قطعاً اخلاق کہلانے کی مستحق نہیں ہیں کیونکہ محض طبعی حالتوں میں بعض اوقات درندے بھی انسان سے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔اور ان پر خلیق کے لفظ کا اطلاق نہیں ہو سکتا جیسا کہ ایک کتے یا بکری یا بعض دوسرے پالتو جانوروں سے اپنے مالک کے ساتھ محبت اور انکسار ظاہر ہو تو اس کتے یا بکری یا جانور کوخلیق نہیں کہیں گے اس طرح پر حضرت مسیح موعود نے طبعی حالتوں اور اخلاقی حالتوں میں ایک امتیاز کر کے دکھایا ہے اور اس فلسفہ اخلاق کی بنیاد آپ نے قرآن کریم پر رکھی ہے۔یونانیوں یا دوسرے فلاسفروں کے تخیلات پر اس کی بنیاد نہیں رکھی۔یہ وہ امتیاز ہے جو قیامت تک قرآن کریم کی شان بلند کا اظہار کرے گا۔اور حضرت مسیح موعود کو اخلاقیات کے تمام معلموں اور فلاسفروں سے اعلیٰ مقام پر کھڑا کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پیشتر کچھ شک نہیں اخلاق پر بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں مگر اس حقیقت کو کسی نے منکشف نہیں کیا۔طلق اور خلق کے بیان میں غزالی اور مہدی کا امتیاز خُلق اور خلق کے متعلق امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ۔خلق اور خلق قریب المعانی الفاظ ہیں جو اکثر ساتھ ساتھ استعمال کئے جاتے