سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 78
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا حضرت مسیح موعود اور فلسفہ اخلاق حصّہ اوّل اگر چہ سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ حصہ آپ کے شمائل واخلاق کے لئے مخصوص ہے اور مجھ کو آپ کے اخلاقی کمالات اور اعجاز ہی کی تفسیر واقعات کی روشنی میں کرنی چاہیے مگر اس سے پیشتر کہ میں آپ کے مختلف اخلاقی فضائل کو دکھاؤں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فلسفہ اخلاق پر مختصرسی بحث کروں تا کہ یہ معلوم ہو کہ حقیقت اخلاق کو جس طرح پر حضرت مسیح موعود نے بیان کیا ہے اس کی نظیر گزشتہ تیرہ سو سال کے اندر امت محمدیہ میں نہیں ملتی۔امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کے فلسفہ اخلاق اور حضرت مسیح موعود کے فلسفہ اخلاق میں امتیاز حضرت امام غزالی علیہ الرحمۃ نے بھی اِحیاء العلوم میں فلسفہ اخلاق کو بیان کیا ہے گوان کا فلسفه اخلاق تمام تر یونانی حکما کے اصولوں سے مستنبط ہے۔جس کو انہوں نے ابن مسکویہ کی کتاب تہذیب الاخلاق (جو یونانی فلسفہ اخلاق کا نچوڑ ہے) سے لیا ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ فلسفہ اخلاق پر لکھا ہے اور بیان کیا ہے وہ خدا تعالیٰ کے خاص علم اور تفہیم وتعلیم کا عطر ہے جیسا کہ میں آگے چل کر دونوں کے فلسفہ اخلاق میں ایک موازنہ قائم کر کے دکھاؤں گا۔(انشاء اللہ العزیز ) خلق کی تعریف دونوں کی نظر میں خلق کی تعریف میں امام صاحب فرماتے ہیں۔روح میں ایسے ملکہ راسخہ کا پایا جانا جس کی وجہ سے انسان سے اچھے یا برے افعال بلا تکلف آپ سے آپ سرزد ہوں۔66 الغزالی مصنفہ علامہ شبلی نعمانی ناشرایم ثناء اللہ خاں۔۲۶ ریلوے روڈ لا ہور طبع دوم - صفحہ ۲۶ از سر عنوان احیاء العلوم کا فلسفہ اخلاق) آگے چل کر امام صاحب نے لکھا ہے کہ: خلق کے وجود کے لئے افعال کا صادر ہونا شرط نہیں صرف یہ شرط ہے کہ