سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 47 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 47

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۷ حصّہ اوّل ہیں کہ پھر ان کو تن بدن کا ہوش نہیں رہتا۔بچارے کوئی بات دین و دنیا کی کیا کریں۔سالن آپ بہت کم کھاتے تھے۔اور اگر کسی خاص دعوت کے موقعہ پر دو تین قسم کی چیزیں سامنے ہوں تو اکثر صرف ایک ہی پر ہاتھ ڈالا کرتے تھے اور سالن کی جور کا بی آپ کے سامنے سے اٹھتی تھی وہ اکثر ایسی معلوم ہوتی تھی کہ گویا اسے کسی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔بہت بوٹیاں یا ترکاری آپ کو کھانے کی عادت نہ تھی بلکہ صرف لعاب سے اکثر چھوا کر ٹکڑا کھا لیا کرتے تھے۔لقمہ چھوٹا ہوتا تھا اور روٹی کے ٹکڑے آپ بہت سے کر لیا کرتے تھے۔اور یہ آپ کی عادت تھی۔دستر خوان سے اُٹھنے کے بعد سب سے زیادہ روٹی کے ٹکڑے آپ کے آگے سے ملتے تھے اور لوگ بطور تبرک کے اُن کو اُٹھا کر کھا لیا کرتے تھے۔آپ اس قدر کم خور تھے کہ باوجود یکہ سب مہمانوں کے برابر آپ کے آگے کھانا رکھا جاتا مگر پھر بھی سب سے زیادہ آپ کے آگے سے بچتا تھا اور بعض شخص تبرک کے بہانے اپنا پیٹ بھرنے کے لئے حضرت صاحب کا سب پس خوردہ آپ کے اٹھتے ہی اٹھالیا کرتے تھے۔بعض دفعہ تو دیکھا گیا کہ آپ صرف روکھی روٹی کا نوالہ منہ میں ڈال لیا کرتے تھے۔اور پھر انگلی کا سر شور بہ میں تر کر کے زبان سے چھوا دیا کرتے تھے تا کہ لقمہ نمکین ہو جاوے۔پچھلے دنوں میں جب آپ گھر میں کھانا کھایا کرتے تھے تو آپ اکثر صبح کے وقت مکئی کی روٹی کھاتے تھے۔اور اس کے ساتھ کوئی ساگ یا صرف کسی کا گلاس یا کچھ مکھن ہوا کرتا تھا یا کبھی اچار سے بھی لگا کر کھا لیا کرتے تھے۔آپ کا کھانا صرف اپنے کام کے لئے قوت حاصل کرنے کے لئے ہوا کرتا تھا نہ کہ لذت نفس کے لئے۔بارہا آپ نے فرمایا کہ ہمیں تو کھانا کھا کر یہ بھی معلوم نہ ہوا کہ کیا پکا تھا اور ہم نے کیا کھایا۔ہڈیاں چوسنے اور بڑا نوالہ اُٹھانے۔زور زور سے چپڑ چپڑ کرنے۔ڈکاریں مارنے یا رکا بیاں چاٹنے یا خود کھانے پر بہت گفتگو کرنے اور اُس کے مدح و ذم اور لذائذ کا تذکرہ کرنے کی آپ کی عادت نہ تھی بلکہ جو پکتا تھا وہ کھالیا کرتے تھے۔کبھی کبھی آپ پانی کا گلاس یا چائے کی پیالی بائیں ہاتھ سے پکڑ کر پیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ابتدائی عمر میں دائیں ہاتھ پر ایسی چوٹ لگی تھی کہ اب تک بوجھل چیز اس ہاتھ سے برداشت نہیں ہوتی۔اکڑوں بیٹھ کر آپ کو کھانے کی عادت نہ