سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 46 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 46

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۴۶ حصّہ اوّل کھاتے تھے ان دنوں میں یہ وقت عشاء کے بعد ہوا کرتا تھا ورنہ مغرب اور عشاء کے درمیان۔مدتوں آپ باہر مہمانوں کے ہمراہ کھانا کھایا کرتے تھے اور یہ دستر خوان گول کمرہ یا مسجد مبارک میں بچھا کرتا تھا۔اور خاص مہمان آپ کے ہمراہ دستر خوان پر بیٹھا کرتے تھے۔یہ عام طور پر وہ لوگ ہوا کرتے تھے جن کو حضرت مرزا صاحب نامزد کر دیا کرتے تھے ایسے دستر خوان پر تعدا دکھانے والوں کی دس سے بیس پچیس تک ہو جایا کرتے تھی۔( بعض اوقات بہت زیادہ ہوتے تھے اور عام طور پر مخصوص نہ ہوتے تھے بلکہ اوائل میں سب اکٹھے کھایا کرتے تھے کوئی تخصیص نہ ہوتی تھی صبح کا کھانا گول کمرہ میں اور شام کا مسجد مبارک کی چھت پر موسم گرما میں۔اور سردیوں میں مسجد مبارک میں ، جب اندر کنواں بن رہا تھا ان ایام میں بعض اوقات نیچے کے ایک مکان میں بھی کھایا کرتے تھے۔عرفانی) گھر میں جب کھانا نوش جان فرماتے تھے تو آپ کبھی تنہا مگر اکثر ام المومنین اور کسی ایک یا سب بچوں کو ساتھ لے کر تناول فرمایا کرتے تھے۔یہ عاجز ( حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب) کبھی قادیان میں ہوتا تو اس کو بھی شرف اس دستر خان پر بیٹھنے کامل جایا کرتا تھا۔سحری آپ ہمیشہ گھر میں ہی تناول فرماتے تھے۔اور ایک دو موجودہ آدمیوں کے ساتھ یا تنہا۔سوائے گھر کے باہر جب کبھی آپ کھانا کھاتے تو آپ کسی کے ساتھ نہ کھاتے تھے یہ آپ کا حکم نہ تھا مگر خدام آپ کو عزت کی وجہ سے ہمیشہ الگ ہی برتن میں کھانا پیش کیا کرتے تھے۔اگر چہ اور مہمان بھی سوائے کسی خاص وقت کے الگ الگ ہی برتنوں میں کھایا کرتے تھے۔کس طرح کھانا تناول فرماتے تھے جب کھانا آگے رکھا جاتا یا دستر خوان بچھتا تو آپ اگر مجلس میں ہوتے تو یہ پوچھ لیا کرتے۔کیوں جی شروع کریں؟ مطلب یہ کہ کوئی مہمان رہ تو نہیں گیا یا سب کے آگے کھانا آ گیا۔پھر آپ جواب ملنے پر کھانا شروع کرتے۔اور تمام دوران میں نہایت آہستہ آہستہ چبا چبا کر کھاتے۔کھانے میں کوئی جلدی یا کوئی حرکت ناشائستہ آپ سے صادر نہ ہوتی البتہ آپ کھانے کے دوران میں ہر قسم کی گفتگو فرمایا کرتے تھے۔برخلاف عام مولویوں کے طریقہ کے جو کھانے میں اتنا مصروف ہوتے