سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 36 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 36

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا اُسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں کیونکہ اس کے ساتھ الہی چمک اور نور دیکھتا ہوں اور اسکے ساتھ خدا کی قدرتوں کے نمونے پاتا ہوں۔غرض جب مجھ کو الہام ہوا کہ آلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدَہ تو میں نے اُسی وقت سمجھ لیا کہ خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا تب میں نے ایک ہندو کھتری ملاوامل نام کو جو ساکن قادیان ہے اور ابھی تک زندہ ہے وہ الہام لکھ کر دیا اور سارا قصہ اُس کو سُنایا اور اُس کو امرتسر بھیجا کہ تا حکیم مولوی محمد شریف کلانوری کی معرفت اس کو کسی نگینہ میں کھدوا کر اور مہر بنوا کر لے آوے اور میں نے اس ہندو کو اس کام کے لئے محض اس غرض سے اختیار کیا کہ تاوہ اس عظیم الشان پیشگوئی کا گواہ ہو جائے اور تا مولوی محمد شریف بھی گواہ ہو جاوے۔چنانچہ مولوی صاحب موصوف کے ذریعہ سے وہ انگشتری بصرف مبلغ پانچ روپیہ طیار ہو کر میرے پاس پہنچ گئی جو اب تک میرے پاس موجود ہے جس کا نشان یہ ہے۔اب حضرت خلیفہ ثانی کے پاس ہے۔عرفانی ) مولی بس والی انگوٹھی کی کیفیت حصّہ اوّل (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۱۹ ،۲۲۰) ۳۰ /نومبر ۱۹۰۵ء کو حضرت سیٹھ عبد الرحمان صاحب مدراسی قادیان سے جانے والے تھے۔اور وہ مہمان خانہ جدید میں اترے ہوئے تھے۔حضرت اقدس وہاں تشریف لائے اور سیٹھ صاحب کو مخاطب کر کے وہ الہامات سنائے جو ۲۹ نومبر ۱۹۰۵ء کی شب کو ہوئے تھے۔اور اسی سلسلہ میں تقریر فرماتے رہے دورانِ تقریر میں فرمایا۔”میرے ایک چچا صاحب فوت ہو گئے تھے (مرزا غلام محی الدین صاحب مراد ہیں ایڈیٹر )۔عرصہ ہوا میں نے ایک مرتبہ اُن کو عالم رویا میں دیکھا اور اُن سے اُس عالم کے حالات پوچھے کہ کس طرح انسان فوت ہوتا ہے اور کیا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ”اس وقت عجیب نظارہ ہوتا ہے۔جب انسان کا آخری وقت قریب آتا ہے تو دو فرشتے جو سفید پوش ہوتے ہیں سامنے آتے ہیں اور کہتے ہیں مولی بس۔مولی بس“۔فرمایا۔