سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 37 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 37

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ ا ودعلیہ السلام ۳۷ حصہ اول حقیقت میں ایسی حالت میں جب کوئی مفید وجود درمیان سے نکل جاتا ہے تو یہی لفظ مولی بس موزوں ہوتا ہے۔اور پھر وہ قریب آ کر دونوں انگلیاں ناک کے آگے رکھ دیتے ہیں۔اے روح ! جس راہ سے آئی تھی اسی راہ سے واپس نکل آ۔“ فر ما یا طبعی امور سے ثابت ہوتا ہے کہ ناک کی راہ سے روح داخل ہوتی ہے اسی راہ سے معلوم ہوا نکلتی ہے۔توریت سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ نقنوں کے ذریعہ زندگی کی روح پھونکی گئی۔“ الحکم جلد ۹ مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۳ کالم نمبرا) یہ رویا مولی بس والی انگشتری کے نقش کا ماخذ ہے چونکہ اَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کا مفہوم صحیح مولی بس میں ہی ادا ہوتا تھا اس لئے زندگی کے آخری حصہ میں جب کسی نے انگشتری بنا کر پیش کرنے کے لئے عرض کیا تو آپ نے اس کو مولی بس لکھدیا۔اور یہی انگشتری آپ کی وفات کے وقت آپ کے ہاتھ میں تھی۔کیسا عجیب معاملہ ہے کہ موت ہی کے نقشہ میں یہ مولی بس سنایا اور دکھایا گیا تھا۔اور وفات کے وقت آپ کے ہاتھ میں یہ انگوٹھی تھی۔آپ کو اپنے والد ماجد کی وفات پر خدا تعالیٰ نے آلیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کے پیارے اور تسلی بخش الفاظ میں مطمئن فرمایا تھا اور آپ نے اپنی وفات کے وقت اپنی اس انگشتری سے پچھلوں کو بتایا کہ مولی بس۔یہ ایک ذوقی بات ہے۔حضرت کی اس تقریر میں جو سیٹھ عبد الرحمان صاحب کو رخصت کے وقت خطاب کر کے فرمائی ان الفاظ پر غور کرو کہ فرمایا۔حقیقت میں جب کوئی مفید وجود درمیان سے نکل جاتا ہے یہی لفظ مولیٰ بس موزوں ہوتا ہے۔یہ کلمات اس وقت کوئی نہ سمجھ سکتا تھا کہ ایک نشان اور پیشگوئی کا رنگ رکھیں گے مگر واقعات نے بتایا کہ آپ کی انگشتری اس آخری وقت کے بعد یہ تسلی دے گی۔بہر حال اس طرح پر یہ آخری اور تیسری انگشتری تیار ہوئی دوسری انگشتری آپ کے ایک الہام کو اپنے اندر رکھتی ہے۔منی آرڈروں پر بھی ایک وقت مہر لگاتے تھے 66 ایک زمانہ میں آپ منی آرڈروں پر اور رجسٹریوں کی رسیدات پر دستخط کرتے وقت ساتھ ہی مہر بھی لگا دیا کرتے تھے۔۱۸۹۸ء کے آغاز میں آپ نے کتابوں پر بھی اپنی مہر لگانے اور دستخط