سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 225 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 225

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۵ اور جس قدر وہ توڑے گئے اُسی قدر وہ مضبوط ہوتے گئے اور جس قدر انہیں مشکلات راہ کا خوف دلایا گیا اُسی قدر اُن کی ہمت بلند اور ان کی شجاعت ذاتی جوش میں آتی گئی بالآخر وہ ان تمام امتحانات سے اول درجہ کے پاس یافتہ ہوکر نکلے اور اپنے کامل صدق کی برکت سے پورے طور پر کامیاب ہو گئے اور عزت اور حرمت کا تاج اُن کے سر پر رکھا گیا اور تمام اعتراضات نادانوں کے ایسے حباب کی طرح معدوم ہو گئے کہ گویا وہ کچھ بھی نہیں تھے غرض انبیاء و اولیاء ابتلاء سے خالی نہیں ہوتے بلکہ سب سے بڑھ کر انہیں پر ابتلاء نازل ہوتے ہیں اور انہیں کی قوت ایمانی ان آزمائشوں کی برداشت بھی کرتی ہے عوام الناس جیسے خدا تعالیٰ کو شناخت نہیں کر سکتے ویسے اس کے خالص بندوں کی شناخت سے بھی قاصر ہیں بالخصوص اُن محبوبانِ الہی کی آزمائش کے وقتوں میں تو عوام الناس بڑے بڑے دھوکوں میں پڑ جاتے ہیں گویا ڈوب ہی جاتے ہیں اور اتنا صبر نہیں کر سکتے کہ ان کے انجام کے منتظر رہیں۔عوام کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ جَلَّ شَانُــهُ جس پودے کو اپنے ہاتھ سے لگاتا ہے اُس کی شاخ تراشی اس غرض سے نہیں کرتا کہ اس کو نابود کر دیوے بلکہ اس غرض سے کرتا ہے کہ تا وہ پودا پھول اور پھل زیادہ لاوے اور اُس کے برگ اور بار میں برکت ہو۔پس خلاصہ کلام یہ کہ انبیاء اور اولیاء کی تربیت باطنی اور تکمیل روحانی کے لئے ابتلاء کا ان پر وارد ہونا ضروریات سے ہے اور ابتلاء اس قوم کیلئے ایسا لازم حال ہے کہ گویا ان ربانی سپاہیوں کی ایک روحانی وردی ہے جس سے یہ شناخت کئے جاتے ہیں اور جس شخص کو اس سنت کے برخلاف کوئی کامیابی ہو وہ استدراج ہے نہ کامیابی۔اور نیز یا درکھنا چاہیے کہ یہ نہایت درجہ کی بدقسمتی و نا سعادتی ہے کہ انسان جلد تر بدظنی کی طرف جھک جائے اور یہ اصول قرار دے دیوے کہ دنیا میں جس قدر خدائے تعالیٰ کی راہ کے مدعی ہیں وہ سب مگار اور فریبی اور دوکاندار ہی ہیں کیونکہ ایسے ردی اعتقاد سے رفتہ رفتہ وجو د ولایت میں شک پڑے گا اور پھر ولایت سے