سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 224 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 224

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا السلام ۲۲۴ ہوتا تو انبیاء اور اولیاء اُن مدارج عالیہ کو ہرگز نہ پاسکتے کہ جو ابتلاء کی برکت سے اُنہوں نے پالئے۔ابتلاء نے اُن کی کامل وفاداری اور مستقل ارادے اور جانفشانی کی عادت پر مہر لگا دی اور ثابت کر دکھایا کہ وہ آزمائش کے زلازل کے وقت کس اعلیٰ درجہ کا استقلال رکھتے ہیں اور کیسے بچے وفادار اور عاشق صادق ہیں کہ ان پر آندھیاں چلیں اور سخت سخت تاریکیاں آئیں اور بڑے بڑے زلزلے اُن پر وارد ہوئے اور وہ ذلیل کئے گئے اور جھوٹوں اور مکاروں اور بے عزتوں میں شمار کئے گئے اور اکیلے اور تنہا چھوڑے گئے یہاں تک کہ ربانی مردوں نے بھی جن کا ان کو بڑا بھروسہ تھا کچھ مدت تک منہ چھپا لیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی مربیانہ عادت کو بہ یکبارگی کچھ ایسا بدل دیا کہ جیسے کوئی سخت ناراض ہوتا ہے اور ایسا انہیں تنگی و تکلیف میں چھوڑ دیا کہ گویا وہ سخت مور دغضب ہیں اور اپنے تئیں ایسا خشک سا دکھلایا کہ گویا وہ اُن پر ذرا مہربان نہیں بلکہ اُن کے دشمنوں پر مہربان ہے اور اُن کے ابتلاؤں کا سلسلہ بہت طول کھینچ گیا ایک کے ختم ہونے پر دوسرا اور دوسرے کے ختم ہونے پر تیسرا ابتلاء نازل ہوا غرض جیسے بارش سخت تاریک رات میں نہایت شدت و سختی سے نازل ہوتی ہے ایسا ہی آزمائشوں کی بارشیں اُن پر ہوئیں پر وہ اپنے پکے اور مضبوط ارادہ سے باز نہ آئے اور سُست اور دل شکستہ نہ ہوئے بلکہ جتنا مصائب و شدائد کا باران پر پڑتا گیا اتنا ہی انہوں نے آگے قدم بڑھایا بقیہ حاشیہ۔قدرتضرعات کئے وہ انجیل سے ظاہر ہیں تمام رات حضرت مسیح جاگتے رہے اور جیسے کسی کی جان ٹوٹتی ہے غم واندوہ سے ایسی حالت ان پر طاری تھی وہ ساری رات رور وکر دعا کرتے رہے کہ تا وہ بلا کا پیالہ کہ جوان کے لئے مقدر تھائل جائے پر باوجود اس قدر گریہ وزاری کے پھر بھی دعا منظور نہ ہوئی کیونکہ ابتلاء کے وقت کی دعا منظور نہیں ہوا کرتی۔پھر دیکھنا چاہیئے کہ سیدنا ومولانا حضرت فخر الرسل و خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتلاء کی حالت میں کیا کیا تکلیفیں اٹھا ئیں اور ایک دُعا میں مناجات کی کہ اے میرے رب میں اپنی کمزوری کی تیری جناب میں شکایت کرتا ہوں اور اپنی بیچارگی کا تیرے آستانہ پر گلہ گزار ہوں میری ذلت تیری نظر سے پوشیدہ نہیں جس قدر چاہے سختی کر کہ میں راضی ہوں جب تک تو راضی ہو جائے مجھ میں بجز تیرے کچھ قوت نہیں۔منہ