سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 226 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 226

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۶ انکاری ہونے کے بعد نبوت کے منصب میں کچھ کچھ ترددات پیدا ہو جاویں گے۔اور پھر نبوت سے منکر ہونے کے پیچھے خدائے تعالیٰ کے وجود میں کچھ دغدغہ اور خلجان پیدا ہو کر یہ دھوکا دل میں شروع ہو جائے گا کہ شاید یہ ساری بات ہی بناوٹی اور بے اصل ہے اور شاید یہ سب اوہام باطلہ ہی ہیں کہ جولوگوں کے دلوں میں جمتے ہوئے چلے آئے ہیں۔سواے سچائی کے ساتھ بجان و دل پیار کرنے والو اور اے صداقت کے بھوکو اور پیاسو! یقیناً سمجھو کہ ایمان کو اس آشوب خانہ سے سلامت لے جانے کیلئے ولایت اور اسکے لوازم کا یقین نہایت ضروریات سے ہے۔ولایت نبوت کے اعتقاد کی پناہ ہے اور نبوت اقرار وجود باری تعالیٰ کیلئے پناہ۔پس اولیا ء انبیاء کے وجود کیلئے سیخوں کی مانند ہیں اور انبیاء خدا تعالیٰ کا وجود قائم کرنے کیلئے نہایت مستحکم کیلوں کے مشابہ ہیں سوجس شخص کو کسی ولی کے وجود پر مشاہدہ کے طور پر معرفت حاصل نہیں اُس کی نظر نبی کی معرفت سے بھی قاصر ہے اور جس کو نبی کی کامل معرفت نہیں وہ خدا تعالیٰ کی کامل معرفت سے بھی بے بہرہ ہے اور ایک دن ضرور ٹھوکر کھائے گا اور سخت ٹھوکر کھائے گا اور مجرد دلائل عقلیہ اور علوم رسمیہ کسی کام نہیں آئیں گی۔اب ہم فائدہ عام کیلئے یہ بھی لکھنا مناسب سمجھتے ہیں کہ بشیر احمد کی موت نا گہانی طور پر نہیں ہوئی بلکہ اللہ جل شانہ نے اُس کی وفات سے پہلے اس عاجز کو اپنے الہامات کے ذریعہ سے پوری پوری بصیرت بخش دی تھی کہ یہ لڑکا اپنا کام کر چکا ہے اور اب فوت ہو جاوے گا بلکہ جو الہامات اُس پسر حمد حاشیہ۔خدا تعالیٰ کی انزال رحمت اور روحانی برکت کے بخشنے کے لئے بڑے عظیم الشان دو طریقے ہیں۔(۱) اول یہ کہ کوئی مصیبت اور غم واندوہ نازل کر کے صبر کرنے والوں پر بخشش اور رحمت کے دروازے کھولے جیسا کہ اُس نے خود فرمایا ہے۔وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ - أُولَيكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتُ مِنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَيكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ الجزو نمبر ٢ (البقرة: ۶ ۱۵ تا ۱۵۸) یعنی ہمارا یہی قانون قدرت ہے کہ ہم مومنوں پر طرح طرح کی مصیبتیں ڈالا کرتے ہیں اور