سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 196 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 196

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٩٦ ہیں اس لئے میں ان کو سیرت کے اس باب میں انشاء اللہ ذکر کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔اب میں چاہتا ہوں کہ تعزیت کے متعلق آپ کے معاملات کا ذکر کروں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق تعزیت عیادت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طرز عمل کو واقعات کے ساتھ میں دکھا چکا ہوں۔تعزیت کے متعلق بھی آپ کا طرز عملی طور پر یہی تھا کہ بعض صورتوں میں آپ اگر موقع ہو تو زبانی تعزیت فرماتے اور یا تحریر۔آپ تعزیت کرتے وقت اس امر کوملحوظ خاطر رکھتے کہ بشریت کی وجہ سے جو صدمہ اور رنج کسی شخص کو پہنچا ہے اسے اپنی عارفانہ نصائح اور دنیا کی بے ثباتی کو واضح کر کے کم کر دیں۔ایسے موقعوں پر بعض وقت انسان کا ایمان خطرہ میں پڑ جاتا ہے اور ماسوی اللہ کی محبت کو قربان کر دیتا ہے اس لئے آپ کا معمول یہی تھا کہ ایسے موقع پر انسان کے ایمان کے بچانے کی فکر کرتے اور ایسے رنگ میں اس پر اثر ڈالتے کہ تمام هم و غم بھول جاتا اور خدا تعالیٰ کی طرف اس کی توجہ غالب ہو جاتی۔بہت سے واقعات میری نظر سے گزرے ہیں اور بیسیوں خطوط میرے سامنے ہیں جن میں آپ نے اپنے مخلص خدام کو ایسے حادثات اور واقعات پیش آجانے پر تعزیت فرمائی۔میں ان واقعات کو کسی خاص ترتیب سے نہیں لکھ رہا ہوں بلکہ میرا کام اس وقت صرف اسی قدر ہے کہ جہاں تک ممکن ہو واقعات کو جمع کر دوں۔پیچھے آنے والے ترتیب کا لحاظ رکھ لیں گے اور اپنے اپنے مذاق پر جس اسلوب سے چاہیں گے انہیں پیش کریں گے۔حافظ ابراہیم صاحب کی اہلیہ کی تعزیت حافظ ابراہیم صاحب بہت پرانے مخلص مہاجر ہیں ، معذور ہیں۔۳۱ جولائی ۱۹۰۶ء کو ان کی بیوی کا انتقال ہو گیا۔یکم اگست ۱۹۰۶ ء کو حضرت اقدس نے ان کی بیوی کی تعزیت کی اور ان کو مخاطب کر کے فرمایا:۔آپ کو اپنی بیوی کے مرنے کا بہت صدمہ ہوا ہے اب آپ صبر کریں تا کہ آپ۔