سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 195
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۹۵ ان سے مل کر آیا ہوں طبیعت اچھی ہے تو پھر آپ نے نماز صبح پڑھی اس کے بعد بہت عرصہ تک مفتی صاحب کو تریاق الہی کھانے کو دیتے رہے جو ان ایام میں تیار ہوا تھا۔غرض آپ کو حضرت مولوی صاحب کے خاندان کے ساتھ بہت ہی محبت تھی۔اور اس کے بعد حضرت حکیم الامت کے چھوٹے گھر میں بچوں کے واقعات وفات ہوتے رہے تو آپ کو اس کا ہمیشہ احساس ہوتا اور آپ کی دعاؤں سے آخر حضرت مولوی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ذکور اور اناث اولاد ایسی دی جو جیتی جاگتی ہے۔آہ اس کتاب کی اشاعت کے وقت حضرت خلیفہ اول کی آخری بیٹی جو بہت بڑی عالم تھیں فوت ہو چکی ہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔عرفانی) حضرت مولوی صاحب کی علالت پر بھی جب کبھی ہو جاتی تو آپ متواتر عیادت کے لئے جاتے اور اکثر خود ادویات تیار کراتے اور آپ غذا کے لئے خاص طور پر انتظام فرماتے۔مختصر یہ ہے کہ نہ صرف آپ عیادت فرماتے بلکہ اپنے خدام اور دوسرے لوگوں کی بیماریوں میں اس قدر ہمدردی اور دلجوئی کا طریق اختیار کرتے کہ ان کے قلب سے فکر وغم جاتا رہتا۔میں نے اوپر حضرت حکیم الامت کی اہلیہ کلاں کی بیماری اور وفات کا تذکرہ کیا ہے۔اس سلسلہ میں اتنا اور اضافہ کرتا ہوں جو اگر چہ درج شدہ واقعہ کی تائید ہی ہے مگر اس کی صحت کی زبردست شہادت ہے کہ آپ نے ۲۸ جولائی ۱۹۰۵ء کو جس روز مرحومہ فاطمہ (اہلیہ کلاں حضرت حکیم الامت ) کا انتقال ہوا۔در بار شام میں قبل از عشاء خود ہی ذکر کر کے فرمایا کہ ”وہ ہمیشہ مجھے کہا کرتی تھیں کہ میرا جنازہ آپ پڑھا ئیں اور میں نے دل میں پختہ وعدہ کیا ہوا تھا کہ کیسا ہی بارش یا آندھی وغیرہ کا وقت ہو۔میں ان کا جنازہ پڑھاؤں گا۔آج اللہ تعالیٰ نے ایسا عمدہ موقعہ دیا کہ طبیعت بھی درست تھی اور وقت بھی صاف میسر آیا اور میں نے خود جنازہ پڑھایا۔بعض واقعات اس سلسلہ میں ایسے بھی ہیں جو زیادہ تر آپ کے خوارق اعجاز یہ سے تعلق رکھتے