سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 194 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 194

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۴ گیا بارہ بج چکے ہیں۔تم جاؤ میرے پاس صرف ایک دعا کا ہتھیار باقی ہے۔میں اس وقت سر اٹھاؤں گا جب وہ اچھی ہو جائے گی۔چنانچہ مفتی صاحب کا ایمان دیکھو کہ گھر میں آکر الگ کمرہ میں چار پائی ڈال کر سور ہے کہ وہ جانے اور اُس کا خدا۔مجھے اب کیا فکر ہے۔مفتی صاحب کہتے ہیں کہ جب صبح میری آنکھ کھلی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ برتنوں کو درست کر رہی ہے میں نے پوچھا کیا حال ہے کہا کوئی دو گھنٹہ بعد آرام ہو گیا تھا۔مفتی صاحب کی عیادت ۱۸۹۷ء میں مفتی صاحب کو خود محرقہ بخار ہوا اور بہت سخت بخار ہوا۔حضور علیہ السلام ہر روز صبح کے وقت ان کے دیکھنے کو تشریف لے آتے تھے اور خود علاج فرماتے اور مولوی صاحب مرحوم کو تاکید کیا کرتے۔ایک روز نماز عشاء کے بعد جب مولوی صاحب تشریف لائے اور مولوی قطب الدین صاحب بھی ساتھ تھے تو مفتی صاحب کی حالت بے ہوشی کی تھی۔مولوی صاحب نے ڈیوڑھی میں جا کر مولوی قطب الدین کو فر مایا آج حالت نازک ہے امید نہیں کہ صبح تک جانبر ہو۔مفتی صاحب کی خوش دامن دروازہ کے پاس سن رہی تھیں۔مولوی صاحب تو اپنے گھر تشریف لے گئے اور مفتی صاحب کی خوش دامن دوڑی ہوئی حضور علیہ السلام کے پاس پہنچیں اور حالت عرض کی۔آپ نے فرمایا میں ایک ضروری مضمون لکھ رہا ہوں۔آپ مولوی صاحب سے جا کر میری طرف سے تاکید کریں۔انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو یہ فرما گئے ہیں کہ حالت نازک ہے۔فرمایا ہیں ، میں نے تو ابھی اس سے بہت کام لینا ہے۔مضمون کو وہیں چھوڑ دیا اور تشریف لے آئے اور دیکھا۔فرمایا بہت اچھا میں چل کر دعا کرتا ہوں۔رات بارہ بجے کے قریب مفتی صاحب کو ایک دست خون کا آیا پھر دوسرا، پھر تیسرا، یہاں تک کہ آنکھیں کھل گئیں۔صبح کی نماز کے وقت حضور جب مسجد میں تشریف لائے تو یہ سب قصہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم سے بیان کیا اور فرمایا کہ بارہ بجے کے قریب میرے دل میں ڈالا گیا کہ اب آرام ہو گیا ہے۔اسی وقت ماسٹر عبدالرحمان صاحب نومسلم جالندھری کو حکم دیا کہ جاؤ دریافت کرو۔آرام کے کیا معنی ہیں۔چنانچہ جب وہ جواب لے کر آگئے کہ میں