سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 193
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۳ اور خود اس رومی ٹوپی کو سر پر رکھ کر تشریف لے گئے جو پگڑی کے اندر آپ رکھا کرتے تھے۔اس کے چند روز بعد پھر تشریف لائے اس وقت حضرت ام المؤمنین بھی ساتھ تھیں فرمایا کیا پک رہا ہے؟ حفصہ نے عرض کیا کہ گوشت ! حضرت ام المؤمنین کو فرمایا کہ دیکھو کیا پک رہا ہے۔جب انہوں نے ڈھکنا اٹھا کر دیکھا اور فرمایا کہ ہاں گوشت ہے تو فرمایا میں نے سمجھا دال پکا رہی ہے اور یوں ہی گوشت بتلا دیا۔بہر حال اس کے بعد وفات تک اپنے عہد پر قائم رہے جو آپ نے حفصہ سے کیا تھا کہ مجھ سے کہا کرو۔حفصہ کی عیادت اور حیرت انگیز علاج عزیز عبدالحفیظ کی تولید پر جب حفصہ کو موسم سرما میں گذاز یعنی ٹیٹس (Tetnus) ہوا ( جس مرض سے اُن ایام میں بہت سی عورتیں تلف ہوئی تھیں ) تو جب نماز مغرب کے بعد مفتی صاحب نے جا کر حضور سے عرض کیا کہ اس کی گردن میں کچھ درد اور کشش ہے۔تو فورافرمایا کہ یہ تو کذاز کا ابتدا ہے۔مولوی صاحب کو بلاؤ۔مفتی صاحب نے کہا کہ انہوں نے حبّ شفا بتلائی ہے۔تو فوراً خود تشریف لے آئے اور مریضہ کو خود آکر دیکھا۔فرمایا دس رتی ہینگ دے دو اور ایک گھنٹہ کے بعد اطلاع دو۔جب مفتی صاحب نے جا کر اطلاع دی کہ کچھ افاقہ نہیں ہوا تو فرمایا دس رتی کونین دے دو۔اور ایک گھنٹہ کے بعد اطلاع دو۔پھر کہا گیا کہ کوئی افاقہ نہیں۔فرمایا دس رتی مشک دے دو۔اور مشک اپنے پاس سے دیا۔گھنٹہ کے بعد عرض کیا گیا کہ مرض بڑھ رہا ہے۔فرمایا دس تولہ کسٹرائل دے دو۔کسٹرائل دینے کے بعد مریضہ کو سخت تے ہوئی اور حالت نازک ہوگئی۔سانس اکھڑ گیا آنکھیں پتھر اگئیں۔قبولیت دعا کا ہتھیار اور اس کے استعمال کا اعجازی طریق مفتی صاحب بھاگے ہوئے گئے فوراً حضور نے پاؤں کی آہٹ سن کر دروازہ کھولا۔عرض کیا گیا۔فرمایا دنیا کے اسباب کے جتنے ہتھیار تھے وہ ہم چلا چکے ہیں۔اس وقت کیا وقت ہے؟ عرض کیا