سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 46 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 46

46 بہت سے دیکھتے ہیں اور میں تو ایسے کئی بغل میں دبائے پھرتا ہوں غرض ایسے ہی بے باکانہ الفاظ کے مگر آپ کی پیشانی پر بل تک نہ آیا بڑے سکون سے سنا کئے اور پھر بڑی نرمی سے اپنی نوبت پر کلام شروع کیا۔کسی کا کلام کیسا ہی بیہودہ اور بے موقعہ ہو اور کسی کا کوئی مضمون نظم میں یا نثر میں کیسا ہی بے ربط اور غیر موزوں ہو آپ نے سننے کے وقت یا بعد خلوت میں کبھی نفرت اور ملامت کا اظہار نہیں کیا۔بسا اوقات بعض سامعین اس دلخراشن لغو کلام سے گھبرا کر اٹھ گئے ہیں اور آپس میں نفرین کے طور پر کانا پھوسی کی ہے اور مجلس کے برخاست ہونے کے بعد تو ہر ایک نے اپنے اپنے حوصلے اور ارمان بھی نکالے ہیں مگر مظہر خدا کی حلیم اور شاکر ذات نے کبھی بھی ایسا کوئی اشارہ کنایہ نہیں کیا۔کوئی دوست کوئی خدمت کرے کوئی شعر بنا لائے کوئی مضمون تائیکہ حق پر آپ بڑی قدر کرتے ہیں اور بہت ہی خوش ہوتے ہیں اور بارہا فرماتے ہیں کہ اگر نکھے کوئی تائید دین کے لئے ایک لفظ نکال کر ہمیں دے تو ہمیں موتیوں اور اشرفیوں کی جھولی سے بھی زیادہ بیش قیمت معلوم ہوتا ہے اصل قبلہ ہمت آپ کا دین اور خدمت دین ہی ہے۔فرماتے ہیں جو شخص چاہے کہ ہم اس سے پیار کریں اور ہماری دعائیں نیاز مندی اور سوز سے اس کے حق میں آسمان پر جائیں وہ ہمیں اس بات کا یقین دلاوے کہ وہ خادم دین ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بارہا قسم کھا کر فرمایا ہے کہ ہم ہر ایک شے سے محض خدا تعالٰی کے لئے پیار کرتے ہیں۔بیوی ہو بچے ہوں دوست ہوں سب سے ہمارا تعلق اللہ تعالی کے لئے ہے۔کوئی شخص آپ سے محبت لگائے اور گاڑھا تعلق پیدا کرے وہ بالمقابل آپ کی محبت دیکھ کر شرمندہ ہو جاتا اور اپنی محبت کو بہت کم اور پست دیکھتا ہے۔دنیا میں کوئی ایسا رشتہ نہیں جسے اپنے کسی متعلق کے سود و بہبود کی وہ فکر ہو جو آپ کو اپنے متوسلین کی ہے۔ہاں شرط یہ ہے کہ وہ مومن اور متقی اور خادم دین ہو یوں تو عام طور پر آپ کو سب کی فلاح و