سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 45 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 45

45 پڑھا کریں اور فرماتے تھے میں دعا میں مصروف ہوں اور امید ہے کہ اللہ تعالی میری دعا منظور کرے گا آج خدا کا یہ فضل ہے کہ پانچوں نمازوں میں اپنے ہی آدمی اسی نوے سے کم نہیں ہوتے فریضہ ادا کرنے کے بعد آپ معا اندر تشریف لے جاتے ہیں۔اور تصنیف کے کام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔مغرب کی نماز کے بعد آپ مسجد میں بیٹھے رہتے ہیں۔کھانا بھی وہیں دوستوں میں مل کر کھاتے ہیں اور عشاء کی نماز پڑھ کر اندر جاتے ہیں۔دوپہر کا کھانا بھی باہر احباب میں مل کر کھاتے ہیں۔اس وقت بھی کسی نہ کسی بات پر تقریر ہو جاتی ہے آپ کی ہر ادا سے صاف ترشح ہوتا ہے کہ آپ کو کوئی حب جاہ اور علو نہیں اور آپ جلوت میں محض خدا تعالی کے امر کی تعمیل کی خاطر بیٹھتے ہیں۔فرمایا اگر خدا تعالیٰ مجھے اختیار دے کہ خلوت اور جلوت میں سے تو کس کو پسند کرتا ہے تو اس پاک ذات کی قسم ہے کہ میں خلوت کو اختیار کروں مجھے تو کشاں کشاں میدان عالم میں اس نے نکالا ہے۔جو لذت مجھے خلوت میں آتی ہے اس سے بجز خدا تعالی کے کون واقف ہے۔میں قریب ۲۵ سال تک خلوت میں بیٹھا رہا ہوں اور کبھی ایک لحظہ کے لئے بھی نہیں چاہا کہ دربار شہرت کی کرسی پر بیٹھوں۔مجھے طبعا اس سے کراہت رہی ہے کہ لوگوں میں مل کر بیٹھوں مگر امر آمر سے مجبور ہوں۔فرمایا میں جو باہر بیٹھتا ہوں یا میر کرنے جاتا ہوں اور لوگوں سے بات چیت کرتا ہوں یہ سب کچھ اللہ تعالی کے امر کی تعمیل کی بنا پر ہے۔آپ دینی سائل کو خواہ کیسا ہی بے باکی سے بات چیت کرنے اور گفتگو بھی آپ کے دعوئی کے متعلق ہو بڑی نرمی سے جواب دیتے اور تحمل سے کوشش کرتے ہیں کہ آپ کا مطلب سمجھ جائے۔ایک روز ایک ہندوستانی جس کو اپنے علم پر بڑا ناز تھا اور اپنے تیں جہاں گرد اور سرد و گرم زمانه دیده و چشیدہ ظاہر کرتا تھا ہماری مسجد میں آیا اور حضرت سے آپ کے دعوے کی نسبت بڑی گستاخی سے باب کلام دا کیا اور تھوڑی ہی گفتگو کے بعد کئی دفعہ کہا آپ اپنے دعوے میں کاذب ہیں اور میں نے ایسے مکار