سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 26
26 ایسا معلوم ہوا کہ گویا آپ کسی بڑے عظیم الشان دل کشا نزہت افزا باغ کی سیر سے واپس آئے ہیں جو یہ چہرہ کی رنگت اور چمک دمک اور آواز میں خوشی اور لذت ہے۔میں ابتدائے حال میں ان نظاروں کو دیکھ کر بڑا حیران ہو تا تھا اس لئے کہ میں اکثر بزرگوں اور حوصلہ اور مردانگی کے مدعیوں کو دیکھ چکا تھا کہ بیماری میں کیا چولہ بدل لیتے ہیں اور بیماری کے بعد کتنی کتنی مدت تک ایسے سڑیل ہوتے ہیں کہ الامان۔کسی کی تقصیر آئی ہے جو بھلے کی بات منہ سے نکال بیٹھے۔بال بچے بیوی دوست کسی اوپرے کو دور سے ہی اشارہ کرتے ہیں کہ دیکھنا کالا ناگ ہے نزدیک نہ آنا۔اصل بات یہ ہے کہ بیماری میں بھی ہوش و حواس اور ایمان اس کا ٹھکانے رہتا ہے جو صحت کی حالت میں مستقیم الاحوال ہو اور دیکھا گیا ہے کہ بہت سے تندرستی کی حالت میں مغلوب غضب شخص بیماری میں خالص دیوانے اور شدت جوش سے مصروع ہو جاتے ہیں۔حقیقت میں ایمان اور عرفان اور استقامت کے پرکھنے کے لئے بیماری بڑا بھاری معیار ہے جیسے سکر اور خواب میں بڑبڑانا اور خواب دیکھنا حقیقی تصویر انسان کی دکھا دیتا ہے بیماری بھی مومن اور کافر دلیر اور بزدل کے پرکھنے کے لئے ایک کسوئی ہے بڑا مبارک ہے وہ جو صحت کی حالت میں جوش اور جذبات نفس کی باگ کو ہاتھ سے نکلنے نہیں دیتا۔برادران 1 چونکہ موت یقینی ہے اور بیماریاں بھی لابدی ہیں کوشش کرو کہ مزاجوں میں سکون اور قرار پیدا ہو۔اسلام پر خاتمہ ہونا جس کی تمنا ہر مسلمان کو ہے اور جو امید وبیم میں معلق ہے اس پر موقوف ہے کہ ہم صحت میں ثبات و تثبیت اور استقامت و اطمینان پیدا کرنے کی کوشش کریں ورنہ اس خوفناک گھڑی میں جو جو اس کو سراسیمہ کر دیتی اور عقاید اور خیالات میں زلزلہ ڈال دیتی ہے تثبیت اور قرار دشوار ہے۔خدا تعالی فرماتا ہے يُنبتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ یہ حثیت کی ہے جو میں حضرت خلیفہ اللہ