سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 27
27 کی سیرت میں دکھا چکا ہوں۔وہ انسان اور کامل انسان جس پر اس دنیا کی آگ اس دنیا کی آفات اور مکروہات کی آگ یہاں کچھ بھی اثر نہیں کر سکی وہ وہی مومن ہے جسے دوزخ کے گی کہ اے مومن گزر جاکہ تیرے نور نے میری نار کو بجھا دیا ہے۔اے بہشت کو دونوں جیبوں میں اس طرح موجود رکھنے والے برگزیدہ خدا جس طرح آج کل لوگ جیبوں میں گھڑیاں، رکھتے ہیں تو یقیناً خدا سے ہے۔ہاں تو اس کثیف اور مکروہ دنیا کا نہیں ورنہ وجہ کیا کہ یہ دنیا اپنی آفات و امتحانات کے پہاڑ تیرے سر پر توڑتی ہے اور وہ یوں تیرے اوپر سے مل جاتے ہیں جیسے بادل سورج کی تیز شعاعوں سے پھٹ جاتے ہیں۔لاکھوں انسانوں میں یہ تیرا نرالا قلب اور فوق العادت جمعیت اور سکون اور ٹھرا ہوا مزاج جو تجھے بخشا گیا ہے یہ کس بات کی دلیل ہے یہ اس لئے ہے کہ تو صاف نظر کر پہچانا جائے کہ تو زمینی نہیں ہے بلکہ آسمانی ہے اس زمین کے ا فرزندوں نے تجھے نہیں پہچانا حق تو یہ تھا کہ آنکھیں تیری راہ میں فرش کرتے اور ولوں میں جگہ دیتے کہ تو خدا کا موعود خلیفہ اور حضرت خاتم النبین کا خادم اور اسلام کو زندہ کرنے والا ہے۔ہاں تو چشم پوشی اور فراغ حوصلگی کی کیا کیا تعریف کروں۔ایک عورت نے اندر سے کچھ چاول چرائے چود کا دل نہیں ہوتا اور بین لئے اس کے اعضاء میں غیر معمولی قسم کی بے تابی اور اس کا ادھر ادھر دیکھنا بھی خاص وضع کا ہوتا ہے کسی دوسرے تیز نظر نے تاڑ لیا اور پکڑ لیا۔شور پڑ گیا۔اس کی بغل سے کوئی پندرہ سمیر کی گٹھڑی چاولوں کی نکلی۔ادھر سے ملامت ادھر سے پھٹکار ہو رہی تھی جو حضرت کسی تقریب سے ادھر آ نکلے پوچھنے پر کسی نے واقعہ کہہ سنایا۔فرمایا محتاج ہے کچھ تھوڑے سے اسے دے دو اور فضیحت نہ کرو اور خدا تعالٰی کی ستاری کا شیوہ اختیار کرو۔کبھی کسی سے باز پرس نہیں کرتے کہ یہ تمہاری حرکات نازیبا ہیں اور تم نے کیا بے ہودہ بکو اس شروع کر رکھا ہے گھر بار میں رعب اور جلال ہے ہر ایک عورت اور بچہ کو جیسے یہ کامل یقین ہے کہ حضرت سزا دینے والے نہیں