سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 25
25 ایمان ہر وقت قومی کو زندہ اور تازہ رکھے اور ہر قسم کی پڑمردگی اور افسردگی سے بچاتا رہتا ہے جو دنیا داروں کو بسا اوقات بڑی بڑی شرمناک حرکات پر مجبور کرتی ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے آپ کو سخت درد سر ہو رہا تھا اور میں بھی اندر آپ کے پاس بیٹھا تھا اور پاس جد سے زیادہ شور و غل بر پا تھا میں نے عرض کیا جناب کو اس شور سے تکلیف تو نہیں ہوتی فرمایا ہاں اگر چپ ہو جائیں تو آرام ملتا ہے میں نے عرض کیا تو جناب کیوں حکم نہیں کرتے فرمایا آپ ان کو نرمی سے کہہ دیں میں تو کہہ نہیں سکتا۔بڑی بڑی سخت بیماریوں میں الگ ایک کوٹھڑی میں پڑے ہیں اور ایسے خاموش پڑے ہیں کہ گویا مزہ میں سو رہے ہیں۔کسی کا گلہ نہیں کہ تو نے ہمیں کیوں نہیں پوچھا اور تو نے ہمیں پانی نہیں دیا اور تو نے ہماری خدمت نہیں کی۔کو سر ہے میں نے دیکھا ہے کہ ایک شخص بیمار ہوتا ہے اور تمام تیمار دار اس کی بد مزاجی اور چڑچڑا پن سے اور بات بات پر بگڑ جانے سے پناہ مانگ اٹھتے ہیں اسے گالی دیتا ہے اسے گھورتا ہے اور بیوی کی تو شامت آ جاتی ہے بے چاری کو نہ دن کو آرام اور نہ رات کو چین کہیں تکان کی وجہ سے ذری اونگھ گئی ہے بس پھر کیا خدا کی پناہ آسمان اٹھا لیا۔وہ بے چاری حیران ہے ایک تو خود چور چور ہو رہی ہے اور ادھر یہ فکر لگ گئی ہے کہ کہیں مارے غضب و غیظ کے اس بیمار کا کلیجہ پھٹ نہ جائے۔غرض جو کچھ بیمار اور بیماری کی حالت ہوتی ہے خدا کی پناہ کون اس سے بے خبر ہے۔بر خلاف اس کے سالہا سال سے دیکھا اور سنا ہے کہ جو طمانیت اور جمعیت اور کسی کو بھی آزار نہ دینا حضرت کے مزاج مبارک کو صحت میں حاصل ہے وہی سکون حالت بیماری میں بھی ہے اور جب بیماری سے افاقہ ہوا معاً وہی خندہ روئی اور کشادہ پیشانی اور پیار کی باتیں۔میں بسا اوقات عین اس وقت پہنچا ہوں جب کہ ابھی ابھی سر درد کے لیے اور سخت دورہ سے آپ کو افاقہ ہوا آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا ہے تو مسکرا کر دیکھا ہے اور فرمایا ہے اب اللہ تعالٰی کا فضل ہے اس وقت مجھے