سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 50
50 دیر ہوئی تھی ہمیں وہاں پہنچے ہوئے۔ہاں ہنوز وہاں بیٹھے بھی نہ تھے کھڑے ہی تھے جو مولوی غزنوی صاحب سامنے سے نمودار ہوئے۔ہاتھ میں آپ کے پتلی سی چھڑی تھی۔جھٹ پاس آتے ہی چھڑی ڈاکٹر صاحب کی شلوار سے لگا دی اور چیں بجیں تند خو اور ترش مگر دھیمی آواز سے اپنی افغانی اردو میں فرمایا یہ پاجامہ مخنوں سے نیچا ہے یہ حرام ہے۔ڈاکٹر صاحب آزاد طبع اور ان رسوم سے قطعاً غافل اور لاپرواہ اس قدر پر ہم ہوئے کہ اگر مولوی صاحب کا پاس نہ ہوتا تو عبد الواحد کو امر بالمعروف کی کیفیت سمجھا دیتے۔غرض اس میں ہمارے امام قدم بقدم حضور سرور عالم سید الاصفیاء ا کے چلتے ہیں اور عقد ہمت اور دعا سے خطا کار کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔یہاں تک کہ اللہ تعالٰی اسے القا کے ذریعہ یا اور ذریعہ سے اصلاح کی توفیق دیتا ہے۔آپ مجلس میں ذو معنی بات نہیں کرتے نہ کبھی آنکھ کے اشارے سے کوئی بات کرتے ہیں۔کبھی ایسا نہیں ہو ا کہ آپ نے کسی کو لگا کر کوئی بات کی ہو یا مجلس میں کسی کو مخاطب کر کے کہا ہو کہ ہم تم پر ناراض ہیں تمہاری فلاں حرکت ہمیں ناگوار ہے اور فلاں بات مکروہ ہے۔آپ کو جیسا کہ خدا کی طرف سے یہ خطاب ملا اور کتاب براہین احمدیہ میں درج ہے فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ وَ لَو كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ حقیقت میں آپ کی ذات میں ایسی لیست اور حلم اور اغماض ہے کہ مزیدے براں متصور نہیں ہو سکتا۔اور کوئی شخص جو کسی گلہ کا گلہ بان ہونا چاہے اور متفرق افراد کو جمع کرنا چاہے جب تک اس میں لینت نہ ہوگی ہر گز کامیاب نہ ہو گا۔میں نے اپنے بعض مکرم دوستوں اور بہتوں کو شکایت کرتے سنا ہے کہ کوئی ان کی بات نہیں مانتا اور باوجود طرح طرح کے احسانوں کے قلوب ان کے فتراک سے متعلق نہیں ہوتے اور لوگوں میں ان کی طرف سے وحشت رہتی ہے وہ حضرت امام کی سیرت اغماض اور عفو کو اپنا اسوہ