سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 51 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 51

51 بنائیں۔نکتہ چینی اور ٹوک اور مجلس میں ذو معنی بات اور لگا کر بات کرنی اور مجمع میں کسی پر اظہار ناراضی کرنا یک قلم ترک کر دیں نیہ سیرت در حقیقت ایک شیشہ یا قمقمه ہے جس میں ہزاروں جن اور پریاں بند کی جا سکتی ہیں یا طلسم ہے کہ جو اس میں ایک مرتبہ پھنس جائے پھر نکلنے کی کوئی راہ نہیں۔اکثرون کو باہر سیر کرنے جاتے ہیں اور راہ میں مناسب وقت تقریر کرتے ہیں ہمیشہ پشت پا پر نظر کر کے چلتے ہیں دائیں بائیں کبھی نہیں دیکھتے اور چلتے میں خدا تعالٰی نے ایسی طاقت دے رکھی ہے کہ کوسوں پیادہ سفر کر سکتے ہیں۔حضرت کبھی پسند نہیں کرتے کہ خدام ان کے پاس سے جائیں۔آنے پر بڑے خوش ہوتے ہیں اور جانے پر کرہ سے رخصت دیتے ہیں۔اور کثرت سے آنے جانے والوں کو بہت ہی پسند فرماتے ہیں۔اب کی دفعہ دسمبر میں بہت کم لوگ آئے اس پر بہت اظہار افسوس کیا اور فرمایا ہنوز لوگ ہمارے اغراض سے واقف نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں کہ وہ کیا بن جائیں۔وہ غرض جو ہم چاہتے ہیں اور جس کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے وہ پوری نہیں ہو سکتی جب تک لوگ یہاں بار بار نہ آئیں اور آنے سے ذرا بھی نہ اکتائیں اور فرمایا جو شخص ایسا خیال کرتا ہے کہ آنے میں اسپر بوجھ پڑتا ہے یا ایسا سمجھتا ہے کہ یہاں ٹھرنے میں ہم پر بوجھ ہو گا اسے ڈرنا چاہئے کہ وہ شرک میں مبتلا ہے۔ہمارا تو یہ اعتقاد ہے کہ اگر سارا جہان ہمارا خیال ہو جائے تو ہماری مہمات کا متکفل خدا ہے ہم پر ذرا بھی بوجھ نہیں۔ہمیں تو دوستوں کے وجود سے بڑی راحت پہنچتی ہے۔یہ وسوسہ ہے جسے دلوں سے دور پھینکنا چاہئے۔میں نے بعض کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم یہاں بیٹھ کر کیوں حضرت صاحب کو تکلیف دیں ہم تو سکتے ہیں یوں ہی روٹی بیٹھ کر کیوں توڑا کریں۔وہ یاد رکھیں یہ شیطانی وسوسہ ہے جو شیطان نے ان کے دلوں میں ڈالا ہے کہ ان کے پیر یہاں جمنے نہ پائیں۔ایک روز حکیم فضل الدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور