سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 49 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 49

49 آپ کسی کو اس کی خطا اور لغزش پر مخاطب کر کے ملامت نہیں کرتے۔اگر کسی کی حرکت ناپسند آوے تو مختلف پیرایوں میں عام طور پر تقریر کر دیں گے اگر وہ سعید ہوتا ہے تو خود ہی سمجھ جاتا اور اپنی حرکت پر نادم ہوتا ہے۔آپ جب تقریر وعظ و نصیحت کی کرتے ہیں ہر ایک ایسا ہی یقین کرتا ہے کہ یہ میرے ہی عیب ہیں جو آپ بیان کر رہے ہیں اور یوں اصلاح اور تزکیہ کا پاک سلسلہ بڑی عمدگی سے جاری رہتا ہے اور کسی کو کوئی ابتلاء پیش نہیں آتا اور نہ کسی کی حمیت اور ناک کو چوٹ لگتی ہے کہ جاہلیت کی جرات سے اور بھی گناہ پر آمادہ اور دلیر ہو۔اس سیرت میں بڑا عمدہ سبق ہے ان لوگوں کے لئے جو ذرا سا کسی کا نقص دیکھ کر اصلاح کے لباس میں اسے یوں کاٹنے پڑتے ہیں کہ درندہ بھی شرمندہ ہو جائے اور بجائے صلح کارمی کے فساد پھیلاتے ہیں۔اس اصلاح کا اتنا ثواب نہ ہو تا جتنا وہ جنگ و جدل کر کے عقاب و عذاب خرید لاتے ہیں۔افسوس میں نے اکثر مولویوں خصوصاً غیر مقلدوں کو تبلیغ میں درشت تند خو اور بد زبان پایا ہے۔کسی کی ذرا مونچھیں بڑھی ہوں اور پاجامہ ذرا مخنوں سے نیچا ہو اور ان کی مسجدوں میں گھس جائے تو سمجھو کہ وہ یا غستان میں گھس گیا اب خدا ہی ہے جو پھر سلامت اسے درہ خیبر سے یا علی مسجد سے واپس لائے۔افسوس یہ رحمتہ للعالمین کی سیرت بیان کرنے کے وقت تو وہ حدیث بھی بیان کر جاتے ہیں کہ کسی نے آنحضرت ا اللہ کی مسجد میں پیشاب کر دیا اور آپ نے اسے کچھ بھی نہ کہا۔مگر عملاً کچھ بھی نہیں دکھاتے۔مجھے خوب یاد ہے ڈاکٹر فضل الدین صاحب اسٹنٹ سرجن جن دنوں سیالکوٹ میں متعین تھے ایک دفعہ کسی کام پر مجھے ساتھ لے کر جموں گئے اور مولوی نور الدین کے ہاں فروکش ہوئے۔ان دونوں عبد الواحد غزنوی بھی وہیں رہا کرتے تھے ڈاکٹر صاحب نے اس وقت بڑی بھاری بھر کم شلوار پہن رکھی تھی۔ابھی تھوڑی ہی