سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 48
48 میں آپ کو لا نظیر پایا ہے۔ایک مولوی اور دنیا کا مولف یا مصنف آگ بگولہ ہو جاتا ہے اگر کوئی شخص اس کی کسی بات پر حرف رکھے اور اپنے تئیں معصوم مانتا ہے۔محضن حضرت کے تعلق کی اپنے خدام سے ایک عجیب بات ایک دن فرمایا میرا یہ مذہب ہے کہ جو شخص ایک دفعہ مجھ سے عہد دوستی باندھے مجھے اس عہد کی اتنی رعایت ہوتی ہے کہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو اور کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے اس سے قطع نہیں کر سکتا ہاں اگر وہ خود قطع تعلق کر دے تو ہم لاچار ہیں ورنہ ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ اگر ہمارے دوستوں سے کسی نے شراب پی ہو اور بازار میں گرا ہوا ہو اور لوگوں کا ہجوم اس کے گرو ہو تو بلا خون لامتہ لائم کے اسے اٹھا کر ا لے آئیں گے۔فرمایا عہد دوستی بڑا قیمتی جوہر ہے اس کو آسانی سے ضائع کر دیتا نہ چاہئے۔اور دوستوں سے کیسی ہی ناگوار بات پیش آوے اسے اغماض اور محمل کے محل میں اتارنا چاہئے۔بھائیوں کو اس سیرت سے بڑا بھاری سبق لینا چاہئے۔بات بات پر بگڑ جانا اور اشتعال کے وقت عامیوں اور جنبیوں کا سا ایک دوسرے سے سلوک کرنا اس عہد کے خلاف ہے جو ید اللہ سے باندھا گیا ہے۔افسوس بہتیرے ایسے ہیں جنہوں نے اب تک اس راز کو سمجھا نہیں کہ قوم کس طرح بنتی ہے ہم سب کا یہ اصول ہونا چاہئے کہ اگر ایک کتے کے منہ سے بھی وہ پیارا نام نکل جائے جس کو ہم نے آج تمام دنیا و مافیہا سے گرامی سمجھا ہے تو اس کا منہ چاٹ لینے میں ذرا پس و پیش نہ کرنا چاہئے۔پھر آپس میں تکرار اور رنج کس قدر نامناسب بات ہے۔سیٹھ صاحب نے اپنے کسی ضروری کام کے لئے 10 جنوری کو اجازت مانگی اور آپ کو بلانے کے لئے دو راس سے تار بھی آیا تھا حضرت نے فرمایا آپ کا اس مبارک مہینہ میں یہاں رہنا از بس ضروری ہے۔اور فرمایا ہم آپ کے لئے وہ دعا کرنے کو تیار ہیں جس سے باذن اللہ پہاڑ بھی ٹل جائے فرمایا میں آج کل احباب کے پاس کم بیٹھتا ہوں اور زیادہ حصہ اکیلا رہتا ہوں۔یہ احباب کے حق میں از بس مفید ہے۔میں تنہائی میں بڑی فراغت سے دعائیں کرتا ہوں اور رات کا بہت ناحصہ بھی دعاؤں میں صرف ہوتا ہے۔منہ - ry اه حضرت سیٹھ عبد الر حمن مداری ک رمضان المبارک