سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 33
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ اسلام 33 33 تھا آپ علیہ السلام اکثر سبق آموز کہانیاں سنایا کرتے۔حضور علیہ السلام کی سنائی ہوئی ایک کہانی ہم آپ کو یہاں سناتے ہیں۔ایک گنجا اور ایک اندھا تھا۔خدا تعالیٰ کا ایک فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا " تو کیا چاہتا ہے؟ سنجے نے کہا میرے سر کے بال آجا دیں اور مال و دولت آ جاوے۔چنانچہ فرشتے نے گنجے کے سر پر ہاتھ پھیرا تو خدا کی قدرت سے اس کے سر پر ہال بھی نکل آئے اور مال و دولت اور نوکر چاکر بھی مل گئے۔پھر وہ اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ تو کیا چاہتا ہے؟ اندھے نے کہا کہ میری آنکھیں روشن ہو جاویں تو میں ٹکریں نہ کھانا پھروں اور روپیہ پیسہ بھی مل جاوے تو کسی کا محتاج نہ رہوں۔فرشتے نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ روشن ہو گئیں اور مال بھی مل گیا۔پھر وہی فرشتہ گنجے اور اندھے کی آزمائش کے لئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک فقیر کے بھیس میں آیا اور گنجے کے پاس جا کر سوال کیا۔گنجے نے ترش روئی (یعنی سختی سے جواب دیا اور جھڑک دیا کہ چل تیرے جیسے بہت فقیر پھرتے ہیں۔فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر دوبارہ گنجا ہو گیا اور سب مال و دولت جا تا رہا۔پھر وہی فرشتہ فقیر کی شکل میں اندھے کے پاس آیا جواب بڑا دولتمند تھا اور دیکھنے بھی لگ گیا تھا۔فقیر بن کر اس نے سوال کیا۔اس نے