سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 38
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ اسلام 38 آپ علیہ السلام پسند فرماتے تھے۔چلتے پھرتے۔سوتے جاگتے ہر وقت دعا ئیں آپ علیہ السلام کی زبان پر ہوتیں۔حضرت اماں جان فرماتی ہیں: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ آپ علیہ السلام کثرت سے پڑھتے ، درود شریف آپ کثرت سے پڑھتے اور استغفار بہت کرتے۔خدا تعالیٰ نے الہاماً آپ کو یہ دعا سکھائی۔رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَا حُفَظْنِي وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِي اور آپ علیہ السلام کے دل میں ڈالا گیا کہ یہ اس زمانے کا اسم اعظم ہے۔اپنی صاحبزادی حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو یہ نصیحت فرمائی کہ " جب آنکھ کھلے یا کروٹ اوتو ضرور دعا کر لیا کرو“ آپ بھی بچو! دعاؤں کی عادت ڈالو۔یہ نصیحت ہم سب بڑوں اور آپ سب بچوں کے لئے بھی ہے۔یہ سب وہ باتیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پسند فرماتے۔اب ہم چند وہ امور بتاتے ہیں جو آپ علیہ السلام نے بچوں کو کرنے سے منع فرمایا۔1- بارش کے بعد آسمان پر دھنک رنگوں کی ایک کمان ظاہر ہوتی ہے جسے سب قوس قزح کہتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں قوس اللہ کیا کرو کیونکہ قوس قزح کا مطلب ہے۔شیطان کی کمان۔