سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 895
۸۹۵ جائے کہ یہی آپ کی بعثت کی اصل غرض و غایت تھی۔چنانچہ آپ نے حدیبیہ سے واپس آتے ہی اس بارہ میں اپنے صحابہ سے مشورہ کیا اور جب اس مشورہ میں آپ سے یہ عرض کیا گیا کہ دنیوی حکمرانوں کا یہ عام دستور ہے کہ وہ مہر شدہ خط کے بغیر کسی اور خط کی طرف توجہ نہیں دیتے تو آپ نے ایک چاندی کی انگوٹھی تیار کروائی جس میں مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کے الفاظ کندہ کروائے گئے۔اور خدا تعالیٰ کے نام کو مقدم اور بالا رکھنے کے خیال سے آپ نے ان الفاظ کی ترتیب یہ مقررفرمائی کہ سب سے اوپر اللہ کا لفظ لکھا گیا اور درمیان میں رسول کا لفظ کندہ کیا گیا اور سب سے نیچے کی سطر میں محمد کا لفظ رکھا گیا " نیز چونکہ ان تبلیغی خطوط میں اس انگوٹھی کا نقش لینا مد نظر تھا، اس لئے یہ تدبیر بھی اختیار کی گئی کہ ان الفاظ کوسیدھے رخ پر لکھنے کی بجائے الٹا لکھا گیا تا کہ جب اس کا نقش لیا جائے تو یہ نقش پریس کی چھپائی کی طرح سیدھی صورت میں ظاہر ہو۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ انگوٹھی اس کے بعد ہمیشہ آپ کے ہاتھ میں رہی اور آپ کی وفات کے بعد اسے حضرت ابوبکر خلیفہ اول نے اپنے ہاتھ میں رکھا اور حضرت ابو بکڑ کے بعد وہ حضرت عمر خلیفہ ثانی کے ہاتھ میں رہی اور ان کے بعد حضرت عثمان خلیفہ ثالث نے اسے پہنائی کہ ایک دن وہ ان کے ہاتھ سے اریس نامی کنوئیں میں گر کر کھوئی گئی ہے حضرت عثمان اور ان کے ساتھیوں نے تین دن تک اس انگوٹھی کی تلاش جاری رکھی اور کنوئیں کا سارا پانی نکال کر چھان مارا مگر وہ نہ ملی ھے فریضہ تبلیغ میں حسن تدبیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تدبیر سے جو آپ نے صحابہ کے مشورہ سے انگوٹھی تیار کرانے میں اختیار کی اس بات پر اصولی روشنی ل : بخاری جلد ا کتاب العلم صفحه ۱۵ نیز بخاری جلد ۲ کتاب الجہاد صفحه ۱۰۷ : فتح الباری بحوالہ زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۳۴ بروایت اسنوی جس کی تصدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خط بنام مقوقس مصر سے بھی ہوتی ہے جو اصلی صورت میں دریافت ہو گیا ہے اور ہم آگے چل کر اسی کتاب میں اس کا فوٹو درج کررہے ہیں۔:۳ زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۳۴۔نیز ملاحظہ ہو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خط بنام مقوقس مصر کا عکس جو اسی کتاب میں دوسری جگہ درج کیا گیا ہے جس میں محمد رسول اللہ کے الفاظ کی تحریر سیدھی نظر آتی ہے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اصل انگوٹھی میں الٹی تحریر تھی۔بخاری کتاب اللباس روایت ابن عمرؓ ۵ : مسند احمد بن حنبل