سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 896 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 896

۸۹۶ پڑتی ہے کہ آپ کس طرح تبلیغ کے کام میں ان تمام رستوں کو اختیار فرماتے تھے جو مخاطب کو اپنی طرف مائل کرنے اور اس کے دل پر اچھا اثر پیدا کرنے کے لئے ضروری تھے۔ظاہر ہے کہ جہاں تک خالص تبلیغ کا تعلق ہے کسی مہر کا ہونا یا نہ ہونا ایک بالکل زائد چیز ہے اور کلمہ حق مہر کے بغیر بھی اتنا ہی وزن رکھتا ہے جتنا کہ مہر کے ساتھ لیکن چونکہ آپ کو بتایا گیا تھا کہ اس زمانہ کے بادشاہ مہر کے بغیر کسی خط کی طرف توجہ نہیں دیتے اور آپ کسی ایسے پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہتے تھے جس کی وجہ سے مخاطب کے دل میں کسی جہت سے بے تو جہگی کی صورت پیدا ہو اس لئے آپ نے اس معمولی سی زائد تجویز کو بھی بڑے اہتمام کے ساتھ اختیار کیا تا کہ آپ کی تبلیغ میں کوئی ایسا رخنہ نہ رہ جائے جو تبلیغ کے اثر کو کسی جہت سے کمزور کرنے والا ہو اور یہی اس قرآنی آیت کی عملی تفسیر ہے کہ : جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ یعنی ”اے رسول دین حق کی تبلیغ کے معاملہ میں ہمیشہ اس رستہ کو اختیار کرو جو مخاطب کے دل و دماغ پر اثر پیدا کرنے کے لحاظ سے بہترین ہو۔“ عرب کے چاروں اطراف میں تبلیغی مہم جوتبلیغی خطوط اس موقع پر روانہ کئے گئے وہ عرب کے چاروں اطراف کے حکمرانوں کے نام تھے یعنی شمال میں روما کی مشہور سلطنت کے شہنشاہ قیصر کے نام اور شمال مشرق میں فارس کی مشہور سلطنت کے شہنشاہ کسری کے نام اور عرب کے شمال مغرب میں مصر کے بادشاہ مقوقس کے نام ے اور مشرق میں یمامہ کے رئیس ہوذ ہ بن علی کے نام۔اور مغرب میں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے نام جو عرب کے مقابل پر براعظم افریقہ میں ایک عیسائی حکومت تھی۔اور شمال میں عرب کی حدود کے ساتھ متصل ریاست غسان کے حاکم کے نام جو قیصر کے ماتحت تھا۔اسی طرح آپ نے ایک خط عرب کے جنوب میں یمن کے رئیس کی طرف بھجوایا تھا اور ایک خط عرب کے مشرق میں بحرین کے والی کی طرف بھی لکھا تھا وغیرہ وغیرہ۔اس طرح ل: سورة النحل : ۱۲۶ مقوقس دراصل مصر کے گورنر کے سرکاری عہدہ کا نام تھا اور ہر گورنر مقوقس کہلاتا تھا۔مصر کے یہ گورنر اس زمانہ میں قیصر روما کے ماتحت ہوا کرتے تھے مگر غالبا یہ ایک موروثی عہدہ تھا جو سوائے خاص حالات کے ایک ہی مخصوص خاندان میں ورثہ کے طور پر قائم چلا جاتا تھا۔عرب لوگ ایسے فرمانرواؤں کو بھی ملک یعنی بادشاہ کہہ کر پکارتے تھے۔ابن ہشام وطبری۔نیز زرقانی جلد ۳ و تاریخ خمیس جلد۲ نیز لائف آف محمد مصنفہ میور