سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 894
۸۹۴ یا درکھنا چاہئے کہ الفاظ ” میری یہ مسجد آخری مسجد ہے“ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میری اس مسجد کے بعد کوئی مسجد نہیں بنے گی کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء نے بہت سے مسجدیں بنائیں اور آج تک اسلامی ممالک میں لاکھوں کروڑوں مسجدیں بنتی چلی آئی ہیں۔پس مراد یہ ہے کہ آئندہ میری مسجد کے مقابل پر کوئی مسجد نہیں بنے گی بلکہ جو سچی مسجد بھی ہوگی وہ لا ز ما میری مسجد کی نقل اور ظل ہوگی۔اور اسی حقیقت کو ایک اور لطیف رنگ میں یوں بیان فرماتے ہیں کہ : أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ یعنی ”میں اور قیامت اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں کہ جس طرح میری یہ دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں (اور یہ الفاظ فرماتے ہوئے آپ نے اپنی دوانگلیاں کھڑی کر کے ایک دوسرے کے ساتھ پیوست کر دیں۔اس لطیف حدیث کا بھی یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میری وفات کے معابعد قیامت آجائے گی کیونکہ یہ بات نہ صرف واقعات بلکہ آپ کی بعثت کی غرض وغایت کے بھی خلاف ہے کہ آپ کے معا بعد قیامت آجاوے۔پس اس حدیث میں بھی یقیناً یہی اشارہ کرنا مقصود ہے کہ میرا دور شریعت قیامت تک چلے گا اور میرے بعد کوئی اور شریعت نہیں آئے گی جو میری شریعت کو منسوخ کر کے ایک نیا دور شروع کر دے۔خلاصہ کلام یہ کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا دادمشن مکانی لحاظ سے وسیع اور غیر محدود ہے اور دنیا کی کوئی قوم آپ کی دعوت سے باہر نہیں اسی طرح زمانی لحاظ سے بھی آپ کا مشن کسی ایک زمانہ تک محدود نہیں بلکہ قیامت تک وسیع اور غیر محدود ہے۔اس تمہیدی نوٹ کے بعد جو اسلام کے تبلیغی نظریہ کی وضاحت کے لئے ضروری تھا ہم اپنے اصل مضمون کی طرف لوٹتے ہیں۔تبلیغی خطوط کے لئے انگوٹھی کی تیاری جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے صلح حدیبیہ کے بعد جب کہ مکہ والوں کے ساتھ صلح ہو جانے کے نتیجہ میں تلوار کے جہاد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی قدر فرصت حاصل ہوئی تو آپ نے اس فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلا کام یہ کیا کہ اسلام کے عالمگیر مشن کے پیش نظر مختلف حکومتوں کے فرمانرواؤں کی طرف تبلیغی خطوط بھجوانے کی تجویز کی تا کہ ان فرمانرواؤں اور ان کے ذریعہ ان کی رعایا کو اسلام کا پیغام پہنچایا بخاری و مسلم