سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 736
۷۳۶ گئیں وہاں غیر مسلموں کے مخصوص ٹیکس یعنی جزیہ کے مصارف میں کوئی دینی غرض شامل نہیں کی گئی بلکہ اسے عام رکھا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بیشتر صورتوں میں زکوۃ کا ٹیکس جو مسلمانوں کے لئے خاص ہے جزیہ کے ٹیکس سے بھاری ہوتا ہے کیونکہ اس کے مصارف زیادہ ہیں۔پس غور کیا جاوے تو جزیہ کے ٹیکس کا غیر مسلموں کے ساتھ مخصوص کر دیا جانا اسلام اور بانی اسلام کی اعلیٰ درجہ کی دیانت کا ثبوت ہے مگر افسوس ہے کہ نادان لوگوں نے اسی کو ایک اعتراض کی بنیاد بنالیا ہے۔اب رہا جزیہ کی تشخیص و تحصیل کا سوال۔سو اس معاملہ میں بھی اسلام نے ایک ایسا اعلیٰ نمونہ قائم کیا ہے جس کی نظیر کسی دوسری جگہ نہیں ملتی۔اس کے متعلق سب سے پہلی بات تو یہ جاننی چاہئے کہ اسلام نے جزیہ کے ٹیکس کی کوئی شرح معین نہیں کی بلکہ اسے ہر زمانہ اور ہر قوم کے حالات پر چھوڑ دیا ہے چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے مختلف قبائل کے ساتھ جزیہ کے متعلق مختلف صورتیں اور مختلف شرحیں اختیار کی تھیں۔چنانچہ مثلاً نجران کے عیسائیوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجموعی طور پر دو ہزار چادر میں اور بعض ضروری چیزیں سالانہ مقرر کی تھیں سے مگر اس کے مقابل پر یمن کے لوگوں سے اوسطاً ایک دینار فی کس سالا نہ مقرر ہوا تھا۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے خلفاء نے بھی یہی طریق جاری رکھا کہ ہر قوم کے مناسب حال ان سے جزیہ کا ٹیکس وصول کیا جاتا تھا اور افراد پر اس ٹیکس کی تقسیم ایسے رنگ میں کی جاتی تھی کہ ہر شخص پر اس کی مالی طاقت کے مطابق بوجھ پڑتا تھا۔چنانچہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ خلفاء اربعہ کے زمانہ میں جزیہ کے ٹیکس کی صورت عموماً یہ تھی کہ خوشحال لوگوں سے اڑتالیس درہم سالا نہ لیا جاتا تھا۔اور متوسط الحال لوگوں سے چوہیں درہم سالانہ اور ان سے کم حیثیت لوگوں سے صرف بارہ درہم سالا نہ لیا جا تا تھا۔یہ خفیف ٹیکس بھی ساری غیر مسلم آبادی پر نہیں لگایا جا تا تھا بلکہ مندرجہ ذیل اقسام کے لوگ اس ل : سورۃ توبہ : اے : سورۃ توبه ۲۹ : سے بخاری بحوالہ فتح الباری جلد ۸ صفحه ۷۳ وابو داؤ د کتاب الخراج باب فــي اخــذ الـجـزيـة وكتاب الخراج قاضی ابو یوسف عرب کا ایک معمولی سونے کا سکہ تھا ه ابوداؤ د کتاب الخراج باب فى اخذ الجزية عرب کا ایک معمولی چاندی کا سکہ تھا کتاب الخراج قاضی ابو یوسف فصل فِي مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ الْجِزْيَةُ