سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 735 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 735

۷۳۵ قائم کیا۔چنانچہ حضرت ابوبکر کے متعلق روایت آتی ہے کہ وہ جب کبھی بھی کوئی اسلامی فوج روانہ فرماتے تھے تو اس کے امیر کو خاص طور پر یہ ہدایت فرماتے تھے کہ غیر مسلم اقوام کی عبادت گاہوں اور ان کے مذہبی بزرگوں کا پورا پورا احترام کیا جاوے یا اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب شام کا ملک فتح ہوا تو جو معاہدہ وہاں کی عیسائی آبادی کے ساتھ مسلمانوں کا قرار پایا اس میں مذہبی آزادی اور مذہبی رواداری کی روح سارے امور پر غالب تھی کے جزیہ کا مسئلہ جزیہ کا مسئلہ بعض لوگوں کو قابل اعتراض نظر آتا ہے حالانکہ وہ محض ایک ٹیکس تھا جو نظام حکومت کے چلانے کے لئے غیر مسلم رعایا سے لیا جاتا تھا اور جس کا فائدہ بالواسطہ خود ٹیکس دینے والوں کو ہی پہنچتا تھا کیونکہ اس روپے سے حکومت ان کے حقوق کی حفاظت ان کے آرام و آسائش اور ان کی بہبودی کا انتظام کرتی تھی اور ان کے جان ومال کی حفاظت کے لئے افواج مہیا کرتی تھی اور اگر یہ اعتراض ہو کہ یہ ٹیکس غیر مسلم رعایا کے ساتھ مخصوص کیوں تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہ ٹیکس فوجی خدمت کا معاوضہ سمجھا جاتا تھا جو مسلمان سپاہی سرانجام دیتے تھے مگر جس سے غیر مسلم رعایا آزاد رکھی گئی تھی یعنی جہاں ہر مسلمان گویا جبری بھرتی کے قانون کے ماتحت تھا وہاں غیر مسلم رعایا اس پابندی سے آزاد تھی۔اس صورت میں یہ انصاف کا تقاضا تھا کہ اسلامی حکومت کے فوجی اخراجات کا بوجھ ایک حد تک غیر مسلم رعایا پر بھی ڈالا جاتا اور یہی جزیہ تھا۔علاوہ از میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل اسلام میں ٹیکس کے معاملہ کو تین شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے: اول وہ ٹیکس جو صرف مسلمانوں کے ساتھ خاص تھے مثلا زکوۃ۔دوم وہ ٹیکس جو صرف غیر مسلموں کے ساتھ خاص تھے مثلاً جزیہ۔سوم مشترک ٹیکس جو حسب حالات سب پر لگائے جاسکتے تھے مثلاً زمین کا مالیہ۔اس تقسیم و تفریق کی وجہ یہ تھی کہ اسلامی حکومت کو بعض ایسے کام بھی کرنے پڑتے تھے جو مسلمانوں کے دینی مصالح کے ساتھ خاص تھے اور یہ انصاف سے بعید تھا کہ ان کا بوجھ غیر مسلم رعایا پر ڈالا جاتا لہذا کمال دیانت داری کے ساتھ اسلام نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے بعض ٹیکس جدا جدا کر دئے۔چنانچہ جہاں مسلمانوں کے مخصوص ٹیکس یعنی زکوۃ میں دینی اور سیاسی اغراض ہر دو مخلوط طور پر شامل کر دی مؤطا امام مالک کتاب الجہاد دیکھو تاریخ طبری۔ابن جریر و تاریخ کامل ابن اثیر وفتوح البلدان بلاذری و کتاب الخراج ابو یوسف وفتوح الشام واقدی حالات فتح شام