سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 737
۷۳۷ سے مستثنیٰ تھے۔-1 -r تمام وہ لوگ جو مذہب کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتے تھے۔تمام عورتیں اور بچے۔تمام بوڑھے اور معمر لوگ جو کام کے ناقابل تھے۔۴۔تمام نابینا لوگ اور اسی قسم کے دوسرے معذور لوگ جو کوئی کام نہ کر سکتے تھے۔۵۔تمام مساکین اور غرباء جن کی مالی حالت جزیہ کی ادائیگی کے قابل نہ تھی۔ہے جزیہ کی تحصیل میں یہ اصول مدنظر رکھے جاتے تھے۔(الف) جزیہ دینے والے کو اختیار تھا کہ خواہ نقد ادا کرے یا اس کی قیمت کے اندازے پر کوئی چیز دے دے۔( ب ) جزیہ کی وصولی کے متعلق تاکیدی حکم تھا کہ اس معاملہ میں کسی قسم کی سختی سے کام نہ لیا جاوے اور بالخصوص بدنی سزا سے منع کیا گیا تھا۔( ج ) اگر کوئی شخص ایسی حالت میں مرجاتا تھا کہ اس کے ذمہ جزیہ کی کوئی رقم واجب الادا ہوتی تھی تو وہ معاف کر دی جاتی تھی اور مرنے والے کے ورثاء اور ترکہ کو اس کا ذمہ وار نہیں قرار دیا جاتا تھا۔ہے کیا یہ مراعات آج کوئی قوم کسی دوسری قوم سے کرتی ہے؟ پھر یہی نہیں کہ جزیہ کی تشخیص میں نرمی سے کام لیا جاتا تھا بلکہ اگر جزیہ واجب ہو جانے کے بعد بھی کسی شخص کی مالی حالت جزیہ ادا کرنے کے قابل نہ رہتی تھی تو اسے جزیہ کی رقم معاف کر دی جاتی تھی۔چنانچہ ذیل کا تاریخی واقعہ اس کی ایک دلچسپ مثال ہے۔روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ ایک ایسی جگہ سے گزرے جہاں بعض غیر مسلموں سے جزیہ وصول کرنے میں کچھ سختی کی جارہی تھی۔یہ دیکھ کر حضرت عمر فور ارک گئے اور غصہ کی حالت میں دریافت فرمایا کہ یہ معاملہ کیا ہے؟ عرض کیا گیا کہ ” یہ لوگ جزیہ ادا نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی طاقت نہیں ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان پر وہ بوجھ ڈالا ” جاوے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے۔انہیں چھوڑ دو۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں لوگوں کو تکلیف دیتا ہے وہ قیامت کے دن خدا کے عذاب کے نیچے ہو گا۔چنانچہ ان لوگوں کا جزیہ معاف کر دیا گیا۔، ۲، ۳: کتاب الخراج فصل فِي مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ الْجِزْيَةُ