سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 488
۴۸۸ میں شام کے کھانے تک کے لیے کچھ نہیں تھا۔انہی اوصاف حمیدہ کی وجہ سے جن کی جھلک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی نظر آنے لگ گئی تھی۔آپ انہیں خاص طور پر عزیز رکھتے تھے اور بعض اوقات فرماتے تھے کہ سب لوگوں میں عائشہ مجھے محبوب ترین ہے۔ایک دفعہ فرمایا کہ مردوں میں تو بہت لوگ کامل گذرے ہیں لیکن عورتوں میں کا ملات بہت کم ہوئی ہیں۔پھر آپ نے آسیہ اہلیہ فرعون اور مریم بنت عمران کا نام لیا اور پھر فرمایا کہ عائشہ کو عورتوں پر وہ درجہ حاصل ہے جو عرب کے بہترین کھانے ترید کو دوسرے کھانوں پر ہوتا ہے۔ایک دفعہ بعض دوسری ازواج مطہرات نے کسی اہلی امر میں حضرت عائشہ کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کہی مگر آپ خاموش رہے لیکن جب اصرار کے ساتھ کہا گیا تو آپ نے فرمایا ” میں تمہاری ان شکایتوں کا کیا کروں میں تو یہ جانتا ہوں کہ کبھی کسی بیوی کے لحاف میں مجھ پر میرے خدا کی وحی نازل نہیں ہوئی ،مگر عائشہ کے لحاف میں وہ ہمیشہ نازل ہوتی ہے۔اللہ اللہ ! کیا ہی مقدس وہ بیوی تھی جسے یہ خصوصیت حاصل ہوئی اور کیا ہی مقدس وہ خاوند تھا جس کی اہلی محبت کا معیار بھی تقدس وطہارت کے سوا کچھ نہیں تھا !! اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ حضرت عائشہ کا نکاح خاص خدائی تجویز کے ماتحت وقوع میں آیا تھا! چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ان کے نکاح سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا تھا کہ ایک فرشتہ آپ کے سامنے ایک ریشمی کپڑا پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ آپ کی بیوی ہے آپ اسے کھولتے ہیں تو اس میں حضرت عائشہ کی تصویر پاتے ہیں مگر آپ نے اس خواب کا کسی سے ذکر نہیں فرمایا اور سمجھ لیا کہ اگر اس خواب نے اپنی ظاہری صورت میں پورا ہونا ہے تو خدا خود اس کا سامان کر دے گا ! چنانچہ بالآ خر خولہ بنت حکیم کی تحریک سے یہ رشتہ قائم ہو گیا۔احادیث میں یہ ذکر بھی آتا ہے کہ آخری ایام میں حضرت سودہ بنت زمعہ نے اپنی باری حضرت عائشہ کو دیدی تھی اور اس طرح حضرت عائشہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مستفیض ہونے کا دوہرا موقع میسر آ گیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ چونکہ اس زمانہ میں شریعت کا نزول ہور ہا تھا اور ہر امر میں جدید دستور العمل کی بنیاد پڑ رہی تھی ، اس لیے جب حضرت سودہ بوڑھی ہو گئیں اور پورے طور پر حقوق زوجیت کی ادائیگی کے قابل نہ رہیں تو انہیں اپنی جگہ یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں انہیں علیحدہ کر دیں اس لیے انہوں نے خود ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ا : ابن سعد جلد ۸ صفحه ۴۶ ے : بخاری باب مناقب ابی بکر ے ، بخاری باب فضل عائشہ ۵ : بخاری کتاب النکاح