سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 487
۴۸۷ نہیں ہے۔ایک دوسرے موقع پر آپ نے حضرت عائشہ کے ساتھ دوڑنے کا مقابلہ کیا۔پہلی دفعہ تو حضرت عائشہ آگے نکل گئیں لیکن جب ایک عرصہ بعد آپ دوسری دفعہ ان کے ساتھ دوڑے تو اس وقت وہ پیچھے رہ گئیں جس پر آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔ھذہ بتلگ یعنی ”لو عائشہ اب وہ بدلہ اتر گیا ہے۔‘، بعض اوقات حضرت عائشہ کی بعض سہیلیاں اُن کے گھر میں معصومانہ اشعار وغیرہ پڑھنے کا شغل کرتیں ، تو آپ بالکل تعرض نہ فرماتے بلکہ جب ایک دفعہ حضرت ابوبکر نے یہ نظارہ دیکھ کر لڑکیوں کو کچھ تنبیہ کرنی چاہی تو آپ نے منع فرمایا اور کہا ابو بکر جانے دو۔یہ عید کا دن ہے لڑکیاں اپنا شغل کرتی ہیں لیکن جب آپ دوسری طرف متوجہ ہوئے تو حضرت عائشہ نے خود لڑکیوں کو اشارہ کر کے انہیں رخصت کر دیا۔مگر با وجود اس صغرسنی کے حضرت عائشہ کا ذہن اور حافظہ غضب کا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت کے ماتحت انہوں نے نہایت سرعت کے ساتھ حیرت انگیز طور پر ترقی کی اور دراصل اس چھوٹی عمر میں ان کو اپنے گھر میں لے آنے سے آپ کی غرض ہی یہ تھی کہ تا آپ بچپن سے ہی اپنے منشا کے مطابق ان کی تربیت کر سکیں اور تا انہیں آپ کی صحبت میں رہنے کا لمبے سے لمبا عرصہ مل سکے اور وہ اس نازک اور عظیم الشان کام کے اہل بنائی جاسکیں جو ایک شارع نبی کی بیوی پر عاید ہوتا ہے، چنانچہ آپ اس منشا میں کامیاب ہوئے اور حضرت عائشہ نے مسلمان خواتین کی اصلاح اور تعلیم و تربیت کا وہ کام سرانجام دیا جس کی نظیر تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔احادیث نبوی کا ایک بہت بڑا اور بہت ضروری حصہ حضرت عائشہ ہی کی روایات پر مبنی ہے حتی کہ ان کی روایتوں کی کل تعداد دو ہزار دوسو دس تک پہنچتی ہے۔ان کے علم وفضل اور تفقہ فی الدین کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ ان کا لوہا مانتے اور ان سے فیض حاصل کرتے تھے۔حتی کہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحا بہ کو کوئی علمی مشکل ایسی پیش نہیں آئی کہ اس کا حل حضرت عائشہ کے پاس نہ مل گیا ہو اور عروہ بن زبیر کا قول ہے کہ میں نے کوئی نص علم قرآن اور علم میراث اور علم حلال و حرام اور علم فقہ اور علم شعر اور علم طب اور علم حدیث عرب اور علم انساب میں عائشہ سے زیادہ عالم نہیں دیکھا۔زہد و قناعت میں ان کا یہ مرتبہ تھا کہ ایک دفعہ ان کے پاس کہیں سے ایک لاکھ درہم آئے انہوں نے شام ہونے سے پہلے پہلے سب خیرات کر دیے ! حالانکہ گھر : بخاری باب حسن المعاشرت ۱۳ : بخاری کتاب العیدین ۵ : ترندی مناقب عائشہ۔کے ابودا ودباب السبق ۴ : زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۳۴ حاکم وطبرانی بحوالہ زرقانی جلد ۳ صفحه ۲۳۴