سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 466 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 466

۴۶۶ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمُه : یعنی نبی کی شان سے یہ بہت بعید ہے کہ اس کے لئے جنگی قیدی پکڑے جائیں حتی کہ دشمن کے ساتھ کسی میدان میں اچھی طرح عملی جنگ نہ ہوئے۔اے مسلمانو! تم قریب کے فوائد پر نگاہ رکھتے ہو ( کہ قیدی پکڑنے میں جلدی کی جاوے تاکہ تم ان کے فدیہ کی رقم سے دشمن کے مقابلہ کی تیاری کر سکو ) مگر اللہ تعالیٰ انجام کار کو دیکھتا ہے ( اور چونکہ انجام کے لحاظ سے یہ طریق پسندیدہ نہیں اور اخلاقی طور پر اس کا اثر خراب ہے اس لئے وہ تمہیں اس طریق سے باز رہنے کا حکم دیتا ہے ) اور اگر تمہیں دشمن کی تعداد و طاقت کا خوف ہو تو جانو کہ اللہ تعالیٰ سب طاقتوں پر غالب ہے اور وہ حکیم یعنی تمہاری حقیقی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے۔“ اس آیت کریمہ میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ مسلمانوں کو اپنی کمزوری اور دشمن کی طاقت کے خیال سے یا فدیہ کے ذریعہ اپنی مالی حالت کو مضبوط بنانے کی غرض سے دشمن کے قیدی پکڑنے کے معاملہ میں جلدی اور بے احتیاطی سے کام نہیں لینا چاہئے کہ جہاں بھی دشمن کو کمزور پایا قیدی پکڑنے شروع کر دیئے یا میدان جنگ میں عملی مقابلہ ہونے سے پہلے ہی قیدی پکڑ لئے بلکہ مسلمانوں کو صرف اس صورت میں قیدی پکڑنے کی اجازت ہے کہ میدان جنگ میں عملاً دشمن کا مقابلہ ہو اور لڑائی کے بعد قیدی پکڑے جائیں۔اس اسلامی تعلیم میں جو بین الاقوامی ضابطہ جنگ کی اعلی ترین بنیاد پر قائم ہے جنگی قیدیوں کی تعداد اور وسعت کو امکانی طور پر تنگ سے تنگ دائرہ میں محدود کر دیا گیا ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اسلام کا منشا یہ تھا کہ سوائے ان صورتوں کے جو لا بدی اور اٹل ہوں حتی الوسع جنگی قیدی نہیں پکڑنے چاہئیں۔پھر فرماتا ہے: فَإِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا اثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءَ حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا : یعنی ”اے مسلمانو! جب کفار کے ساتھ تمہاری جنگ ہو تو خوب جم کر لڑو اور ظالموں کو قتل کرو اور جب اچھی طرح جنگ ہولے تو اس کے بعد دشمن کے آدمیوں میں سے قیدی پکڑو۔پھر اگر اصلاح کی امید ہو اور حالات مناسب ہوں تو ان قیدیوں کو بعد میں یونہی احسان کے طور پر چھوڑ دو یا مناسب فدیہ لے کر انہیں رہا کر دو اور یا اگر ضروری ہو تو انہیں قید میں ہی رکھو حتی کہ جنگ ختم : سورۃ انفال : ۶۸ : سورة محمد : ۵