سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 399 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 399

۳۹۹ روک تھام کی غرض سے اختیار کی جا رہی ہے آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئے حتیٰ کہ انصار بھی جو بیعت عقبہ ثانیہ کے معاہدے کے موافق صرف مدینہ پر حملہ ہونے کی صورت میں آپ کی حفاظت کے ذمہ دار سمجھے جاتے تھے اور جو اس وقت تک کسی غزوہ یا سر یہ میں شامل نہیں ہوئے تھے۔شریک جہاد ہونے کے لئے آمادہ ہو گئے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ آپ نے مدینہ میں ایک مجلس قائم کی اور صحابہ سے مشورہ دریافت فرمایا۔حضرت ابو بکر و عمر نے جان نثارانہ تقریریں کیں مگر آپ نے ان کی طرف کچھ التفات نہ کیا جس پر رؤساء انصار سمجھ گئے کہ آپ کا روئے سخن ان کی طرف ہے۔چنانچہ ان میں سے سعد بن عبادہ رئیس خزرج نے جان نثارانہ تقریر کی اور عرض کیا یا رسول اللہ! انصار ہر خدمت کے لئے حاضر ہیں اور جہاں بھی آپ ارشاد فرمائیں جانے کے لئے تیار ہیں۔اس کے بعد آپ نے صحابہ میں عام تحریک فرمائی اور انصار ومہاجرین کی ایک جمعیت آپ کے ساتھ نکلنے کو تیار ہو گئی ہے لیکن پھر بھی چونکہ عام خیال قافلہ کے مقابلہ کا تھا بہت سے صحابہ یہ خیال کر کے کہ محض قافلہ کی روک تھام کا معاملہ ہے جس کے لئے زیادہ لوگوں کا شامل ہونا ضروری نہیں ہے شامل نہیں ہوئے۔دوسری طرف وہ بعض خاص صحابہ جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لشکر قریش کی آمد کا علم ہو گیا تھا مگر جن کو اخفاء راز کا حکم تھا وہ اپنی جگہ فکرمند تھے کہ دیکھئے اس موقع پر جبکہ لشکر قریش سے بھی مٹھ بھیڑ ہو جانے کا احتمال ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی اہم ذمہ داری سے عہدہ برا ہو سکتے ہیں یا نہیں۔چنانچہ انہی لوگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن شریف فرماتا ہے اِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَرِهُونَ " یعنی مدینہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکلنے کو مومنوں کا ایک فریق ( اپنی ظاہری طاقت کا خیال کرتے ہوئے ) پسند نہیں کرتا تھا اور اسے ایک مشکل اور نازک کام سمجھتا تھا۔مگر چونکہ ان کے آقا کا یہی منشاء تھاوہ دلی جوش کے ساتھ لبیک لبیک کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔اس وقت تک گو وہ دو صحابی جن کو آپ نے خبر رسانی کے واسطے بھیجا تھا واپس نہیں لوٹے تھے مگر چونکہ لشکر قریش کی اطلاع آچکی تھی آپ نے مزید توقف کرنا مناسب خیال نہ کیا۔اور بارہ رمضان کو بروز اتوار مدینہ سے انصار و مہاجرین کی ایک جمعیت کے ساتھ اللہ کا نام لیتے ہوئے روانہ ہو گئے۔اکا برصحابہ میں سے جو لوگ اس غزوہ میں شامل نہیں ہو سکے ان میں سے حضرت عثمان بن عفان کا نام خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ان ایام میں چونکہ ان کی زوجہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت ل ابن سعد و طبری : سورۃ انفال : ۶ ے مسلم وابوداؤد : ابن سعد وزرقانی : طبری وابن ہشام