سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 400 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 400

۴۰۰ بیمار تھیں۔اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خود حکم دیا تھا کہ وہ ان کی تیمارداری کے لیے مدینہ میں ہی ٹھہریں۔اسی طرح قبیلہ خزرج کے رئیس اعظم سعد بن عبادہ بھی عین وقت پر بیمار ہو جانے کی وجہ سے شامل نہیں ہو سکے یا قبیلہ اوس کے رئیس اسید بن الحضیر بھی کسی مجبوری کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے۔طلحہ بن عبید اللہ اور سعید بن زید چونکہ ابھی تک خبر رسانی کی مہم سے واپس نہیں آئے تھے اس لیے وہ بھی لڑائی کی عملی شرکت سے محروم رہ گئے باقی اکثرا کا بر صحابہ آپ کے ہمرکاب تھے۔مدینہ سے تھوڑی دور نکل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈیرہ ڈالنے کا حکم دیا اور فوج کا جائزہ لیا۔کم عمر بچے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی کے شوق میں ساتھ چلے آئے تھے ، واپس کئے گئے۔سعد بن ابی وقاص کے چھوٹے بھائی عمیر بھی کم سن تھے۔انہوں نے جب بچوں کی واپسی کا حکم سنا تو لشکر میں اِدھر اُدھر چھپ گئے لیکن آخر ان کی باری آئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی واپسی کا حکم دیا۔یہ حکم سن کر عمیر رونے لگ گئے اور آپ نے ان کے غیر معمولی شوق کو دیکھ کر انہیں اجازت دے دی ہے اب لشکر اسلامی کی تعداد کچھ اوپر تین سو دس تھی۔جن میں مہاجرین کچھ اوپر ساٹھ تھے اور باقی سب انصار تھے۔۔مگر بے سروسامانی کا یہ عالم تھا کہ ساری فوج میں صرف ستر اونٹ اور دوگھوڑے تھے اور انہی پر مسلمان باری باری سوار ہوتے تھے حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی کوئی الگ سواری نہیں تھی یعنی آپ کو بھی دوسروں کے ساتھ باری باری سے چڑھنا اور اترنا پڑتا تھا۔آپ کے ساتھیوں نے بڑے اصرار سے عرض کیا کہ ہم پیدل چلتے ہیں حضور سوار رہیں، مگر آپ نے نہ مانا اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ میں تم سے چلنے میں کمزور نہیں ہوں اور ثواب کی خواہش بھی مجھے کسی سے کم نہیں پھر میں کیوں نہ باری میں حصہ لوں کے لشکر میں زرہ پوش صرف چھ سات تھے اور باقی سامانِ حرب بھی بہت تھوڑا اور ناقص تھا۔الغرض جائزہ وغیرہ کے کام سے فارغ ہو کر آپ آگے روانہ ہوئے۔ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ ایک شخص نے جو مشرک تھا آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں آپ کے ساتھ چل کر جنگ میں شریک ہونا چاہتا ہوں۔صحابہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے کیونکہ وہ شخص اپنی بہادری اور شجاعت میں شہرت رکھتا تھا۔مگر آپ نے یہ فرما کر اسے رد کر دیا کہ میں اس موقع پر ایک مشرک سے مدد نہیں لینا چاہتا۔تھوڑی دیر بعد وہ شخص پھر آیا لیکن ادھر سے پھر وہی جواب تھا۔تیسری دفعہ وہ پھر حاضر ہوا اور اپنی خدمات پیش کیں زرقانی سے بخاری غزوہ بدر : اصابہ ذکر عمیر بن ابی وقاص ابن سعد