سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 398 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 398

۳۹۸ ،، قافلہ خطرہ کی جگہ سے بچ کر نکل گیا ہے اور اس لئے اب لشکر کو آگے جانے کی ضرورت نہیں۔اس خبر پر بعض لوگ واپس جانے کو تیار ہو گئے لیکن ابو جہل اور اس کی پارٹی کے اثر کے ماتحت اکثر اہل لشکر نے جن کی نیتیں کچھ اور تھیں بلکہ ایک روایت کی رو سے سب نے لے بڑی سختی سے انکار کیا اور کہا کہ ”خدا کی قسم ہم بدر تک ضرور جائیں گے اور وہاں جا کر تین دن تک جشن منائیں گے تا کہ ہمیشہ کے لئے ملک میں ہمارا رعب بیٹھ جاوے اور لوگ ہم سے ڈرنے لگ جائیں۔چنانچہ سوائے چند آدمیوں کے جو واپس لوٹ گئے۔کے باقی سارالشکر بڑے کروفر کے ساتھ آگے بڑھا اور مکہ سے نکلنے کی تاریخ سے نویں دن (ایک دن درمیان میں راستہ کھوئے جانے کی وجہ سے ضائع ہو گیا تھا۔" ) یعنی ضمضم کی اطلاع پہنچنے کے گیارہ یا بارہ دن کے بعد بدر کی وادی کے ورلے کنارے پر پہنچا اور وہاں ڈیرے ڈال دئے۔اس وقت لشکر قریش کی تعداد ایک ہزار نفوس پر مشتمل تھی اور یہ لوگ رائج الوقت سامان حرب سے خوب آراستہ تھے۔چنانچہ فوج میں سواری کے سات سواونٹ اور ایک سو گھوڑے تھے اور سب سوار اوراکثر پیادہ زرہ پوش تھے اور دیگر سامان جنگ بھی مثلاً نیزہ اور تلوار اور تیر کمان وغیرہ کافی تعداد میں موجود تھا۔اب ہم تھوڑی دیر کے لئے لشکر قریش سے جدا ہو کر مدینہ کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کے قافلہ کی خبر پا کر اپنے دو صحابی اطلاع حالات کے لئے روانہ فرما دئے تھے لیکن ابھی وہ واپس نہیں لوٹے تھے کہ آپ کو کسی ذریعہ سے مخفی طور پر یہ اطلاع بھی پہنچ گئی کہ قریش کا ایک جرار لشکر مکہ سے آ رہا ہے۔اس وقت جو کمزور حالت مسلمانوں کی تھی اسے ملحوظ رکھتے ہوئے نیز جنگی تدابیر کے عام اصول کے مطابق آپ نے اس خبر کو مشتہر نہیں ہونے دیا تا کہ عامتہ المسلمین میں اس کی وجہ سے کسی قسم کی بددلی نہ پیدا ہو لیکن ایک بیدار مغز جرنیل کی طرح آپ نے بغیر اس خبر کے اظہار کے ایسے رنگ میں صحابہ میں تحریک فرمائی کہ بہت سے صحابہ باوجود یہ خیال رکھنے کے کہ یہ ہم قافلہ کی طبری صفحه ۱۲۸۸ وا ابن سعد جلد ۲ صفحہ ۷ یا درکھنا چاہئے کہ بدر یک وادی کا نام ہے جس میں چند چشمے ہیں اور جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔اس کی مسافت عام حالات میں مدینہ سے چار پانچ یوم اور مکہ سے آٹھ نو یوم کی کبھی جاتی ہے۔زمانہ جاہلیت میں یہاں ہر سال ایک میلہ لگا کرتا تھا جس میں عرب کے مختلف قبائل جمع ہو کر تجارت کرتے اور جشن مناتے تھے۔پس کفار مکہ نے اس میلہ کی آڑرکھ کر یہ اصرار کیا کہ ہم بدر تک ضرور جائیں گے تا کہ ہمارا رعب بیٹھ جاوے۔روایات میں واپس لوٹ جانے والوں میں قبیلہ بنو عدی اور زہرہ کا نام مذکور ہوا ہے۔زرقانی